بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

دوسرے کے مال سے بلا اجازت اپنا منافع لینا


سوال

زید نے عامر سے کہا مجھے گھر میں شیشے لگانے کے لیے ایک کاریگر کی ضرورت  ہے،عامر نے ایک کاریگر سے 50 ہزار روپے پر بات طے کی  ،بعد  میں عامر کاریگر کو زید کے پاس لے جا کر کہتا ہے 55ہزار روپے کا بل بنانا ،پانچ ہزار روپے میں  اپنے لیے  منافع رکھنا چاہتا ہوں ،تو کیا پانچ ہزار روپے عامر کے لیے حلال ہیں یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی شخص کسی کو مزدور یا کاریگر کام کروانے کے لیے مہیا کرے تو ایسا شخص مزدور مہیا کرنے کے  بدلے کام کروانے والے شخص سے   طے شدہ اجرت لے سکتا ہے،لیکن  اگر شروع  میں اجرت  طے نہ ہوئی ہو تو اگر یہ شخص لوگوں کو مزدور مہیا کرنے کے بدلے اجرت لینے میں مشہور  ہو تو اجرت مثل  کا حقدار بنے گا البتہ اگر یہ شخص مزدور مہیا کرنے کے بدلے اجرت لینے پر مشہور نہ ہو تو  یہ کام اس کی طرف سے تبرع و احسان شمار کیا جائے گا اور کسی اجرت کا حقدار نہیں ہو گا۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر عامر نے کاریگر سے 50 ہزار روپے میں بات کی  تو زید کاریگر کو 50 ہزار روپے ہی ادا کرے گا،البتہ عامر کو کاریگر تلاش کرنے کے بدلے  اگر شروع میں اُجرت متعین کی ہو تو  وہ اس کا مطالبہ کر سکتا ہے، اور اگر شروع میں اُجرت متعین نہ ہواور عامر اُجرت کے بدلے کام کرنے میں مشہور ہو تو اجرت مثل کا حقدار ہو گا،اور اگر عامر اس کام کے بدلے اُجرت لینے میں مشہور بھی نہ ہو تو اس کو کوئی اجرت نہیں ملے گی، اور عامر کا  کاریگر کو 50 ہزار روپے کی جگہ 55 ہزار کا بل بنانے کا کہنا اور 5 ہزار روپے اپنے پاس رکھنا شرعا جائز نہیں۔

 

لا يجوز لأحد من المسلمين أخذمال أحد بغير سبب شرعي۔(البحرالرائق، فصل في التعزير ج:5، ص:44)

إذا اشترطت الأجرة في الوكالة،وأوفاها الوكيل استحق الأجرة۔۔۔۔۔۔وإن لم تشترط،ولم الوكيل ممن يخدم بالأجرة كان متبرعا،فليس له أن يطالب الأجر،وأما إذا كان ممن يخدم بالأجرة،فله مثله۔۔۔۔(شرح المجلة لسليم رستم باز،الكتاب الحادى العشر في الوكالة،الباب الثالث في احكام الوكالة:1467،ص:789)


فتویٰ نمبر : 6001/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں