بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

ایک تولہ سونا اور کچھ نقد رقم پر زکوٰۃ کا حکم


سوال

ایک عورت کے پاس ایک تولہ سونا اوراس کے علاوہ کچھ نقد روپے ہیں  تو کیا اس مال کی وجہ سے اس پرزکوٰۃ ادا کرنا واجب ہو گی؟

جواب

واضح رہے کہ زکوٰۃ کی شرائط میں سے ایک شرط یہ ہے کہ نصاب کامل ہو یعنی ساڑھے سات  تولہ سونا  یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی قیمت کے برابر نقد رقم یا سامان تجارت ہو ،اگر ان میں سے کوئی ایک بھی نہ ہو بلکہ کچھ سونا ہو،کچھ چاندی اور کچھ نقد رقم ہو تو اس صورت میں ان کو اجزاء کے اعتبار سے ملا کر دیکھا جائے گا اگر ملانے سے نصاب کامل ہو جائے تو زکوٰۃ واجب ہو گی ورنہ نہیں۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر کسی عورت کے پاس ایک تولہ سونا  ہوتو صاحب نصاب بننے کے لیے ساڑھے پینتالیس تولہ چاندی یا  اس کی موجودہ قیمت کے اعتبار سے نقد رقم   یا مال تجارت موجود ہو  تو سال گزرنے کے بعد زکوٰۃ اد کرنا واجب ہو گی۔  اور اگر ایک تولہ سونا کے ساتھ ساڑھے پینتالیس تولہ چاندی  یا اس کی موجودہ  قیمت کے اعتبار سے نقد رقم  یا  مال تجارت موجود نہ ہو تو زکوٰۃ ادا کرنا واجب نہیں ہے۔

 

 ومنها: كون المال نصابا فلا تجب في أقل منه"(الفتاوى الهندية، كتاب الزكاة، الباب الاول: في تفسيرها، وصفتها، وشرائطها، ج:1، ص: 133)

‌ثم ‌اختلفوا ‌في ‌كيفية ‌الضم، فقال أبو حنيفة - رحمه الله تعالى -: يضم أحدهما إلى الآخر باعتبار القيمة، وقال أبو يوسف ومحمد باعتبار الأجزاء وهو إحدى الروايتين عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى۔(کتاب المبسوط،کتاب الزکاۃ،باب زکاۃ المال،ج:2ص:193)

ويضم الذهب إلى الفضة، والفضة إلى الذهب، ويكمل إحدى النصابين باالأخر عند علمائنا.... ثم قال أبو حنيفة: يضم باعتبار القيمة.... وقال ابويوسف و محمد: يضم باعتبار الأجزاء يعني بالوزن." (الفتاوى التاتارخانية، كتاب الزكوة، فصل في زكوة المال، ج:3، ص:158)


فتویٰ نمبر : 10203/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں