بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

لڑکی کا رہائشی مدرسہ میں مقیم رہنا


سوال

میں ایک مدرسہ میں داخلہ لینا چاہتی ہوں ،جس میں طالبات مقیم  ہوتی ہیں ،اور وہ   مدرسہ ہمارے گھر سے سو کلو میٹر سے زیادہ فاصلے پر ہے۔تو کیا میرے لئے اس مدرسہ میں داخلہ لے کر وہاں مقیم ہونا بغیر محرم کے جائز ہے یا نہیں ؟برائے مہربانی راہنمائی فرمائیں۔

جواب

اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام نے عورت کی پاکدامنی اور عفت و عصمت کی خاطر اسے گھر میں رہنے کا حکم دیا ہے، اور بغیر ضرورت شدیدہ کے گھر سے باہر نکلنے کو ناجائز قرار دیا ہے ،ارشاد باری تعالی ہے: وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجنَ تَبَرُّجَ الجَاهِلِيَّةِ الأُولى ،ترجمہ: اور اپنے گھروں میں قرار کے ساتھ رہو اور (غیر مردوں کو) بناؤ سنگھاردکھاتی نہ پھر و، جیسا کہ جاہلیت میں دکھایا جاتا تھا۔

کسی خاتون کا سفر شرعی کی مسافت میں محرم یا شوہر کے بغیر نکلنا جائز نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے :عن ابن عمر رضي الله عنهما : أن النبي صلى الله عليه وسلم قال:لا تسافر المرأة ثلاثة أيام إلا مع ذي محرم  ۔ترجمہ : ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷐نے فرمایا کہ عورت محرم کے بغیر تین دن کا سفر نہ کرے۔البتہ اگر کوئی عورت اپنے محرم کے ساتھ سفر شرعی کی مقدار میں گھر سے دور جا کر کسی ہاسٹل یا مدرسہ  میں اقامت اختیار کرے اور وہاں شرعی اصولوں کی رعایت رکھتے ہوئے عفت و عصمت اور پاکدامنی کا لحاظ پوری طرح ممکن ہو۔ بے حیائی ، بے پردگی اور غیر اخلاقی ماحول کا خدشہ نہ ہو اور نہ غیر محارم کے ساتھ اختلاط کا خطرہ ہو تو وہاں بلا محرم اقامت اختیار کرنے کی گنجائش معلوم ہوتی ہے، کیونکہ حدیث کی روسے محرم کا ساتھ ہوناسفر میں شرط ہے، اقامت میں نہیں، لہذا جب فتنہ و فساد کا اندیشہ نہ ہو تو ہاسٹل  یا مدرسہ میں بلا محرم اقامت کرنا جائز ہے، البتہ یہ ضروری ہے کہ وہ عورت اس جگہ ( ہاسٹل وغیرہ ) میں کم از کم ایک مرتبہ پندرہ دن قیام کی نیت سے ٹھہر کر اس کو وطن اقامت بنادے ، تب بلا محرم وہاں رہ سکتی ہے، چنانچہ اگر ہاسٹل  یا مدرسہ میں وہ اقامت کی نیت نہیں کرتی تو وہ سفر کی حالت میں ہوگی، لہذا "لاتسافر المرآۃ" کی ممانعت اس کی طرف متوجہ رہے گی، اور محرم ساتھ نہ ہونے پر گناہ گار ہو گی ، البتہ اقامت اختیار کرنے سے اس کا حکم حضر جیسے ہو کر بلا محرم رہنے کی گنجائش ہو جائے گی۔

 

عن ابن عباس - رضي الله عنهما قال : قال النبي ﷺ : "لا تسافر المرأة إلا مع ذي محرم ولا يدخل عليها رجل إلا ومعها محرم ، فقال رجل : يا رسول الله ! إني أريد أن أخرج في جيش كذا وكذا وامرأتي تريد الحج .فقال : اخرج معها.(صحيح البخاري ،كتاب جزاء الصيد،باب حج النساء:ج:2،ص:658،حدیث نمبر:1763)

ولا يزال على حكم السفر حتى ينوى الإقامة في بلدة أو قرية خمسةعشر يوما أو أكثر كذا في الهداية .(الفتاوی الهندية،كتاب  الصلاة ،الباب الخامس عشر في صلاة المسافر ،ج:1،ص:139)

و وطن الإقامة : وهو أن يقصد الإنسان أن يمكث في موضع صالح للإقامة خمسة عشر يوماً أو أكثر. (بدائع الصنائع ،کتاب الصلاۃ ،فصل فی ببان ما يصيرالمسافربه مقيما.ج:1،ص:103)


فتویٰ نمبر : 5990/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں