بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 25/10/2026 |
دارالافتاء
دس،گیارہ سالہ بالغہ لڑکی پراحکام شریعت کالزوم
سوال
بعض اوقات لڑکی دس، گیارہ سال کی عمر میں بالغہ ہو جاتی ہے ، یعنی حیض کا خون آنا شروع ہو جاتا ہے اور ظاہر ہے کہ دس، گیارہ سال کی عمر میں لڑکی کوئی خاص فہم و سمجھ نہیں رکھتی اور نہ ہی شرعی امور کی با قاعدہ پاسداری کرتی ہے، تو کیا اس حالت میں وہ تمام شرعی اوامر و نواہی کی ایسی ہی مکلف ہو جاتی ہے جیسے کہ ایک اٹھارہ سال کی عمر والی سمجھدارلڑکی ہوتی ہے یا اس کےلئے کچھ تخفیف ہے؟ اور کیا اس حالت میں وہ بالغہ اپنا حق بلوغت رکھتی ہے کہ اولیاء کی اجازت کے بغیر اپنی مرضی سے نکاح کرے؟ اور موجودہ قانون بھی اٹھارہ سال سےکم عمر لڑکی لڑکے کو یہ اختیار نہیں دیتا ہے کہ وہ خود اپنی مرضی سے نکاح کریں۔
جواب
جب کوئی لڑکا یا لڑکی حد بلوغ کو پہنچ جائےتووہ شریعت کے تمام احکامات کے مکلف ہو جاتے ہیں۔لڑکیوں میں بالغ ہونے کی کم سے کم عمر نو سال ہے، نو سال کی عمر کے بعد اگر علاماتِ بلوغت (احتلام، ماہواری اور حاملہ ہونا) میں سے کوئی علامت پائی جائے تو اسی وقت سے لڑکی بالغہ شمارہوگی اور اگر علاماتِ بلوغت میں سے کوئی علامت نہ پائی جائے تو پندرہ سال کی عمر ہونے پر لڑکی شرعاً بالغہ شمار ہوگی۔اسی طرح لڑکوں میں بلوغ کی کم سے کم عمربارہ سال ہے، بارہ سال کی عمر میں اگر علامات بلوغ میں کوئی علامت پائی جائے تو لڑکا بالغ شمار ہوگا۔
صورت مسؤلہ کے مطابق اگر کوئی لڑکی دس،گیارہ سال کی عمر میں بالغہ ہوجائےتووہ تمام شرعی اوامر و نواہی کی ایسی ہی مکلف ہو جاتی ہے جس طرح زیادہ عمر کی عورتیں،اوراس کو وہ تمام حقوق حاصل ہوجاتےہیں جودوسری عورتوں کوحاصل ہوتے ہیں،لہذااگراس طرح عاقلہ بالغہ لڑکی اپنے والدین کی رضامندی کے بغیرکفومیں اپنا نکاح خود کرائے تو شرعاً ایسا نکاح منعقد ہوجاتا ہے، اگرچہ والدین کی رضامندی کے بغیر نکاح کرنا شرعًا و اخلاقًا پسندیدہ نہیں ہے۔
"عن علي عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «رفع القلم عن ثلاثة عن النائم حتى يستيقظ، وعن الصبي حتى يحتلم، وعن المجنون حتى يعقل».(سنن ابي داؤد،باب في المجنون يسرق أو يصيب حدا، رقم الحديث:4403)
"بلوغ الغلام بالاحتلام أو الإحبال أو الإنزال، والجارية بالاحتلام أو الحيض أو الحبل، كذا في المختار. والسن الذي يحكم ببلوغ الغلام والجارية إذا انتهيا إليه خمس عشرة سنة عند أبي يوسف ومحمد - رحمهما الله تعالى - وهو رواية عن أبي حنيفة رحمه الله تعالى وعليه الفتوی...وأدنى مدة البلوغ بالاحتلام ونحوه في حق الغلام اثنتا عشرة سنة، وفي الجارية تسع سنين، ولا يحكم بالبلوغ إن ادعى وهو ما دون اثنتي عشرة سنة في الغلام وتسع سنين في الجارية."(الفتاوی الھندیة، کتاب الحجر، الباب الثانی فی الحجر للفساد، الفصل الثانی فی معرفۃ حد البلوغ، ج: 5، ص: 61)
"(فنفذ نكاح حرة مكلفة لا ) رضا ( ولي ) والأصل أن كل من تصرف في ماله تصرف في نفسه وما لا فلا ( وله ) أي للولي (إذا كان عصبةً) ولو غير محرم كابن عم في الأصح، خانية. وخرج ذوو الأرحام والأم وللقاضي (الاعتراض في غير الكفء) فيفسخه القاضي ويتجدد بتجدد النكاح ( ما لم ) يسكت حتى ( تلد منه)".(الدر المختار مع رد المحتار، كتاب النكاح ، باب الولي، ج:3، ص:55-56)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں