بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

غیر مسلموں کو سود پر پیسے دینا


سوال

عرض یہ ہے کہ کیا ایک مسلمان غیر مسلم کو قرض دے کر اس پر سود لے سکتا ہے یا نہیں  تاکہ اس کے ذریعہ سے غیر مسلموں کے معاشی نظام کو نقصان پہنچایا جاسکے کیونکہ وہ اس طرح کے سودی نظام اپنا کر پوری دنیا کی معیشت پر قابض ہوچکے ہیں؟

جواب

 نصِ قرآن کی رو سے  سودی لین دین حرام ہے،   جس طرح سود دیناحرام ہے، اسی طرح سود لینابھی حرام  ہے ، دونوں کے متعلق احادیثِ  مبارکہ میں وعیدیں وارد ہوئی ہیں،لہٰذا مسلمان غیر مسلم کے ساتھ سودی معاملہ کرے،   پھر بھی  یہ ناجائز وحرام ہے۔

لہذا  صورتِ مسئولہ  كے مطابق غیر مسلموں کو قرض دے کر ان سے سود لینا جائز  نہیں ۔اس سے غیر مسلموں کے معاشی نظام  کی بجائے اپنے ایمان وعمل کو نقصان  پہنچے گا۔غیر مسلموں کی معاشی ترقی سودی نظام کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کے دیگر عوامل ہیں۔سود تو بہر حال سود خور کے لیے باعث ِ نقصان ہے۔

قرآنِ کریم میں باری تعالی کا ارشاد ہے :

﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ (٢٧٨) فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ﴾

ترجمہ:…’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور جو کچھ سود کا بقایا ہے اس کو چھوڑدو، اگر تم ایمان والے ہو، پھر اگر تم اس پر عمل نہیں کروگے تو اشتہار سن لو جنگ کا اللہ کی طرف سے اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے‘‘۔ [البقرۃ:۲۷۸،۲۷۹-بیان القرآن]

حدیث شریف میں ہے:

"عن جابر، قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا، ومؤكله، وكاتبه، وشاهديه»، وقال: «هم سواء»".

(صحیح مسلم،کتاب البیوع، باب لعن آکل الربوٰ و موکله، رقم الحديث:1598 ج:5، ص:50)

"عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: «اجتنبوا السبع الموبقات» قالوا: يا رسول الله، وما هن؟ قال: «الشرك بالله، والسحر، وقتل النفس التي حرم الله إلا بالحق، وأكل الربا، وأكل مال اليتيم، والتولي يوم الزحف، وقذف المحصنات المؤمنات الغافلات»." (صحيح البخاري، کتاب الوصايا، رقم الحديث:2766، ج:4، ص:10)


فتویٰ نمبر : 3638/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں