بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

قبلہ کی طرف پاؤں پھیلا کر سونے یا بیٹھنے کا حکم


سوال

اگر کوئی بیٹھے یا لیٹے ہوئے قبلہ کی طرف پاؤں پھیلائے تو اس کا کیا حکم ہے ؟نیز اگر کسی نے غلطی اور بھول سے پاؤں قبلہ کی طرف پھیلائے ہوں تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

قبلہ شعائر اللہ میں ہے اس کی تعظیم تمام مسلمانوں پرلازم ہے اس لیے قبلہ  کی جانب کوئی بھی ایسا فعل کرنا کہ جس سے قبلہ کی بے ادبی ہوتی ہو،جائز نہیں ہے۔چونکہ ہمارے عرف میں   قبلہ کی طرف پاؤ ں پھیلانا بے ادبی شمار ہوتا ہے،اس لیے اگر بلا عذر قصداً  ایسا کیا جائے تو مکروہِ تحریمی ہے، اور اگر قصداً یا  تساھلاً نہ ہو تو پھر گناہ نہیں، البتہ خلافِ ادب ضرور ہے۔

 

"(ويكره) تحريماً (استقبال القبلة بالفرج) ولو (في الخلاء) بالمد: بيت التغوط، وكذا استدبارها (في الأصح كما كره) لبالغ (إمساك صبي) ليبول (نحوها، و) كما كره (مد رجليه في نوم أو غيره إليها) أي عمداً لأنه إساءة أدب، قاله منلا ناكير، (أو إلى مصحف أو شيء من الكتب الشرعية إلا أن يكون على موضع مرتفع عن المحاذاة) فلايكره، قاله الكمال".

"(قوله: مد رجليه) أو رجل واحدة ومثل البالغ الصبي في الحكم المذكور (قوله أي عمداً) أي من غير عذر أما بالعذر أو السهو فلا....(قوله: لأنه إساءة أدب) أفاد أن الكراهة تنزيهية، لكن قدمنا عن الرحمتي في باب الاستنجاء أنه سيأتي أنه بمد الرجل إليها ترد شهادته. قال: وهذا يقتضي التحريم فليحرر، (قوله: إلا أن يكون) ما ذكر من المصحف والكتب؛ أما القبلة فهي إلى عنان السماء". (رد المحتار مع الدر المختار، كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، مطلب في أحكام المساجد، ج:2، ص:427)


فتویٰ نمبر : 5995/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں