بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

وارنٹی کارڈ میں غلط تاریخ لکھنا


سوال

ایک آدمی  بیٹری کا کاروبار کرتا ہے اور جب کوئی بیٹری خریدتا ہے تو سال کی وارنٹی بھی دیتا ہے  لیکن جب ہم اس سے بیٹری خریدتے ہیں تو ہمیں وارنٹی کارڈ خالی دیتا ہے اور کہتا ہے کہ آپ بیٹری استعمال کرتے رہواور جب خراب ہو جائے تو اس وقت کی تاریخ  اس میں لکھ لیں گے تو بعض اوقات وہ سال سے زیادہ استعمال کرنے کے بعد خراب ہوجاتی ہےلیکن اس وقت کی تاریخ لکھ کر کمپنی کو واپس کردیتے ہیں تو کیا اس طرح کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟

جواب

 شریعت مطہرہ میں دھوکہ دہی اور جھوٹ بولنےپربہت سی وعیدیں وارد ہوئی ہیں، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جھوٹ بولنےکو منافق کی نشانی شمار کیا ہے، اوراسی طرح دھوکہ دینے والے کے بارے میں نبی علیہ السلام نےفرمایا کہ ہم میں سے نہیں۔

صورت مسئولہ کے مطابق وارنٹی کارڈ میں دھوکہ کرکے غلط تاریخ لکھ کر مقررہ وقت کے بعد بیٹری کمپنی کو واپس کرنا جھوٹ اور دھوکہ دہی ہے اس لیے یہ عمل جائز نہیں۔

 

عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على صبرة من طعام، فأدخل يده فيها، فنالت أصابعه بللا، فقال: «يا صاحب الطعام، ما هذا؟»، قال: أصابته السماء يا رسول الله، قال: «أفلا جعلته فوق الطعام حتى يراه الناس»، ثم قال: «‌من ‌غش ‌فليس ‌منا»۔ ( سنن الترمذي، أبواب البيوع، باب ماجاء في كراهية الغش، ج:3، رقم الحديث:1310)

عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:آية المنافق ثلاث: إذا حدث كذب، وإذا وعد أخلف، وإذا اؤتمن خان۔ (صحيح البخاري، كتاب الإيمان، باب علامة المنافق، ج:1، ص:10)


فتویٰ نمبر : 3636/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں