بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

شرط کے نہ پائے جانے کی صورت میں نذر کا حکم


سوال

ایک عورت نے نذر مانی تھی کہ اگر میرا شوہر اس سال جیل سے رہا ہوا تو میں ایک ماہ روزے رکھوں گی لیکن  سال پورا ہونے پر شوہر  جیل سے رہا نہیں ہوا ہے توکیا اب اُس کےذمے ایک ماہ روزے رکھنا ضروری ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ اگر نذر کو کسی شرط کے ساتھ معلق  کیا جائے تو اس شرط کے پائے جانے کی صورت میں نذر کا پورا کرنا و اجب ہوگاااور اگر وہ  شرط نہیں پائی گئی تو نذر کا پورا کرنا واجب نہیں ہوتا۔

صورت مسئولہ کے مطابق جس عورت نے اس طرح نذر مانی تھی کہ''اگر میرا شوہر اس سال جیل سے رہا ہوا تو میں ایک ماہ روزے رکھوں گی''  لیکن اس کاشوہراس سال میں جیل سے رہا نہیں ہوا  تواس پرایک ماہ روزے رکھنا واجب نہیں ۔

 

‌وإن ‌كان ‌معلقا ‌بشرط ‌نحو ‌أن يقول: إن شفى الله مريضي، أو إن قدم فلان الغائب فلله علي أن أصوم شهرا، أو أصلي ركعتين، أو أتصدق بدرهم، ونحو ذلك فوقته وقت الشرط، فما لم يوجد الشرط لا يجب بالإجماع. (بدائع الصنائع، كتاب النذر، فصل في حكم النذر، ج:5، ص:93)


فتویٰ نمبر : 7020/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں