بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

حلالہ میں شرط لگانا اور حلالہ کے بارے میں حدیث میں مذکور وعید


سوال

حدیث مبارک میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان: "لعن ‌رسول ‌الله صلی اللہ علیه وسلم  المحل، والمحلل له" کیا حلالہ کے وقت کے ساتھ خاص ہے یا اس کے بعد بھی ان پر لعنت  ہوتی ہے اور کیا شرط لگاکر حلالہ کرنے سے بیوی پہلے شوہر کے لیے حلال ہوگی یا نہیں؟ وضاحت فرمائیے۔

جواب

شوہر اگر اپنی بیوی کوتین طلاقیں دے تو عورت اپنے شوہر پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوجاتی ہے اور اس کے بعد شوہر کے لیے رجوع یا تجدید نکاح کرنا جائز نہیں ، تاہم اگر عورت عدت گزار نے کے بعد دوسرے شخص سے نکاح کرے پھر وہ اس سے ہمبستری کے بعد طلاق دے یا مرجائےتو  پھر یہ عورت  عدت گزار کر پہلے شوہر سے نکاح کرسکتی ہے۔ لیکن اس شرط کے ساتھ نکاح کرنا کہ وہ شخص ہمبستری کے بعد طلاق  دے گا تاکہ وہ پہلے شوہر کے لیے حلال ہوجائے سخت گناہ، لعنت کا سبب اور مکروہ تحریمی ہے، اگرچہ اس کے باوجود عورت اپنے سابقہ شوہر کے لیے حلال ہوجائے گی  ۔ البتہ اگر  نکاح کے وقت شرط نہ لگائی جائے اور صرف اس شخص کے دل میں یہ ارادہ اور نیت ہو تو ایسا شخص حدیث میں مذکور وعید کے زمرے میں نہیں آئے گا ۔نیز حدیث میں مذکور لعنت سے مراد اللہ کی رحمت سے دوری ہے جب بندہ حلالہ میں شرط لگا تا  ہے تو وہ اللہ کی رحمت سے دور ہوجاتا ہےجو رحمت الله تعالی کے نیک اور فرمانبردار بندوں کے ساتھ خاص ہے  جب تک وہ بندہ توبہ و استغفار نہیں کرتا اس وقت  تک وہ اللہ کی رحمت سے دور ہی رہتا ہے جب وہ صدق دل سے توبہ کرے تو اللہ کی رحمت اس کی طرف متوجہ ہو سکتاہے  ۔

 

عن أبي هريرة، قال: " لعن رسول الله المحل، والمحلل له". (مسند أحمد، رقم الحدیث:8287، ج:8، ص:266)

(وكره) التزوج للثاني (تحريما) لحديث لعن المحلل والمحلل له (بشرط التحليل) كتزوجتك على أن أحللك (وإن حلت للاول) لصحة النكاح وبطلان الشرط فلا يجبر على الطلاق. ( رد المحتار، کتاب الرجعة، ج:1، ص:231)

‌يكره ‌التزوج بشرط التحليل بالقول بأن قال تزوجتك على أن أحللك له أو قالت المرأة ذلك لقوله عليه الصلاة والسلام «لعن الله المحلل والمحلل له» أما لو نويا ذلك بقلبهما ولم يشترطا بقولهما فلا عبرة به وقيل الرجل مأجور بذلك وتأويل اللعن إذا شرط الأجر (وتحل) المرأة (للأول) لوجود الدخول بنكاح صحيح إذ النكاح لا يبطل بالشرط.(مجمع الانهرفي شرح ملتقي الأبحر، كتاب الطلاق، باب الرجعة، ج:1، ص:439)

(وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ) اى ‌البعد ‌عن ‌الرحمة.(روح البيان،سورة المؤمن، آيت:52)

قال في القاموس ‌لعنه ‌كمنعه ‌طرده وأبعده وقال في المجمع اللعنة هي الطرد والإبعاد ولعن الكافر إبعاده عن الرحمة كل الإبعاد ولعن الفاسق إبعاده عن رحمة تخص المطيعين انتهى.(تحفة الاحوذي، باب ما جاء في اللعن والطعن، ج:6، ص:137)


فتویٰ نمبر : 7024/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں