بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/10/2026

دارالافتاء

 

مسلمان لڑکی کا شیعہ لڑکے سے نکاح کرنا


سوال

ہم 2008 میں اپنے گھر و جائیداد بیچ کر پشاور منتقل ہوگئے تھے ادھر  میری بہن کا رشتہ ہوگیا ،نکاح و رخصتی کے بعد پتہ چلا کہ اس لڑکے کے گھر والے شیعہ ہیں ،پوچھنے پر اس لڑکے نے کہا کہ میں شیعہ نہیں ہوں وہ شادی کے بعد کبھی ماتم پر نہیں گیا ،پانچ وقت کی نماز پڑھتا ہے  اور قسمیں بھی کھاتا ہے کہ میں شیعہ نہیں ہوں اور لڑکی کے گھر والوں کے اصرار پر اس نے لڑکی کے لیے الگ گھر لے کر اس کو وہاں پر رکھا ہوا ہے اس کے دو بچے بھی ہیں، اب لڑکی کا بڑا بھائی اس سے کہتا ہے کہ میری بہن کے ساتھ تمہارا نکاح صحیح نہیں ہے ،آیا اس لڑکے کا اس مسلمان لڑکی سے نکاح صحیح ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ نکاح کے صحیح ہونے کے لیے ضروری ہے کہ لڑکا اور لڑکی دونوں مسلمان ہوں،تاہم اگر ان دونوں میں سے کوئی ایک شیعہ ہو اور اس کے عقائد ایسے ہوں کہ جن سے ضروریات دین کا انکار لازم آتا ہو جیسے : حضرت علی  کی الوہیت کا عقیدہ رکھنا یا اس بات کا عقیدہ رکھنا کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام سے وحی لانے میں غلطی ہوئی اور وہ حضرت علی کی جگہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وحی لائے یا قرآن مجید کے محرف ہونے کا عقیدہ یا حضرت ابوبکر  کے صحابی ہونے سے انکار کرنا یا حضرت عائشہ پر تہمت لگانا وغیرہ، تو ایسے شیعہ کے کفر پر امت مسلمہ کا اتفاق ہے اور اس سے کسی مسلماں کا نکاح صحیح نہیں ہوتا۔لیکن اگر کسی شیعہ کےعقائد  مذکورہ بالا عقائدمیں سے نہ ہوں یا پہلے اس کے عقائد ایسے تھے لیکن بعد میں اس نے ان عقائد کو چھوڑ کر ایمان قبول کیا ہو  تو ایسے شیعہ کے ساتھ کسی  مسلما ن  لڑكی کا نکاح جائز ہے ۔

صورت مسؤلہ کے مطابق اگرمذکورہ لڑکے کے عقائد ایسے ہوں جن سے ضروریات دین کا انکار لازم آتا ہو تو ایسا لڑکا دائرہ اسلام سے خارج ہونے کی وجہ سے   مسلمان لڑکی کا اس سے  نکاح صحیح نہیں ،لیکن اگر اس کے عقائد ایسے نہ ہوں یا پہلے اس کے عقائد غلط تھے لیکن بعد میں اس نے اپنے عقائد سے صدق دل سے توبہ  و برائت کی  ہو تو اس سے  کیا ہوا نکاح صحیح  ہوگا۔

 

‌قال اللہ تعالی: ﴿لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمْ وَلَا هُمْ يَحِلُّونَ لَهُنَّ﴾ (الممتحنة: ١٠)

وبهذا ظهر أن ‌الرافضي ‌إن ‌كان ممن يعتقد الألوهية في علي، أو أن جبريل غلط في الوحي، أو كان ينكر صحبة الصديق، أو يقذف السيدة الصديقة فهو كافر لمخالفته القواطع المعلومة من الدين بالضرورة، بخلاف ما إذا كان يفضل عليا أو يسب الصحابة فإنه مبتدع لا كافر.(رد المحتار على الدر المختار، كتاب النكاح، فصل في المحرمات، مطلب في وطي السراري، ج:4، ص:135)

الرافضي إذا كان يسب الشيخين ويلعنهما والعياذ بالله، فهو كافر، وإن كان يفضل عليا كرم الله تعالى وجهه على أبي بكررضي الله تعالى عنه لا ‌يكون ‌كافرا ‌إلا ‌أنه مبتدع والمعتزلي مبتدع إلا إذا قال باستحالة الرؤية، فحينئذ هو كافر كذا في الخلاصة.ولو قذف عائشة رضي الله تعالى عنها بالزنا كفر بالله... من أنكر إمامة أبي بكر الصديق رضي الله عنه، فهو كافر، وعلى قول بعضهم هو مبتدع وليس بكافر والصحيح أنه كافر، وكذلك من أنكر خلافة عمر رضي الله عنه في أصح الأقوال كذا في الظهيرية.(الفتاوى الهندية، كتاب السير، مطلب في موجبات الكفر، ج:2، ص:264)


فتویٰ نمبر : 7025/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں