بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

گھر کا گھر کے ساتھ تبادلہ کی صورت میں حق شفعہ


سوال

اگر کسی شخص کے گھر کے متصل گھر فروخت ہو رہا ہو لیکن اس گھر کا تبادلہ قیمت کی بجائے دوسرے گھر سے ہو رہا ہو، تو کیا اس صورت میں اس شخص کو شفعہ کا حق حاصل ہے؟ جب کہ اس کے پاس دوسرا گھر نہیں  ہے، بلکہ وہ قیمت ادا کرنا چاہتا ہے۔

جواب

واضح رہے کہ اگر کسی گھر یا زمین کو فروخت کیا جارہا ہو اور اس کا تبادلہ قیمت کی بجائے دوسرے گھر یا زمین سے ہو رہا ہو تو اس صورت میں بھی شفیع کو حق شفعہ حاصل ہوتا ہے البتہ استحقاق شفعہ کے بعد شفیع کے ذمے اُس تبادلہ میں دیے جانے والے گھر یا زمین کی قیمت ادا کرنا لازم ہوتا ہے۔

صورت مسئولہ  کے مطابق اگر کسی شخص کے گھر کے متصل گھر فروخت ہو رہا ہو اور اس کا تبادلہ دوسرے گھر کے ساتھ ہو رہا ہوتو شفیع کو شفعہ کا حق حاصل ہوگا اوراس پر اس تبادلے والے گھر کی قیمت ادا کرنا لازم ہو گا۔

 

وإذا ‌اشترى ‌دارا ‌بدار ولكل واحدة منهما شفيع فلكل شفيع أن يأخذ الدار بقيمة الأخرى؛ لأنه لا مثل للدار من جنسها، فيكون الواجب على كل شفيع بمقابلة ما يأخذ قيمة الدار الأخرى." (المبسوط للسرخسي، كتاب الشفعة، باب الشفعة في الأرضين والأنهار، ج:14، ص:132)

"‌وإن ‌باع ‌عقارا ‌بعقار أخذ الشفيع كل واحد منهما بقيمة الآخر"؛ لأنه بدله وهو ذوات القيم فيأخذه بقيمته. (الهداية، كتاب الشفعة، باب طلب الشفعة و الخصومة فيها، ج:4، ص:400)


فتویٰ نمبر : 3637/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں