بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

نماز جنازہ میں تکبیرات کا فوت ہو جانا


سوال

اگر کوئی شخص جنازہ کی نماز میں دوسری یا تیسری تکبیر کے بعد شامل ہونا چاہے، تو کیا اسی تکبیر کی مناسبت سے دعا یا درود شریف پڑھے گا یا اپنی پہلی تکبیر کا اعتبار کرتے ہوئے ثنا پڑھے گا؟

جواب

اگر کوئی شخص نمازہ جنازہ میں ایسے وقت پہنچ جائے کہ اس کے آنے سے پہلے کچھ تکبیرات ہوچکی ہوں تو وہ امام کی اگلی تکبیر کا انتظار کرے، جب امام اگلی تکبیر کہے تو یہ شخص بھی ہاتھ اٹھا کر تکبیر کہتے ہوئے نماز میں شریک ہوجائے، یہ اس کی تکبیر تحریمہ ہوگی، لیکن اگر کوئی شخص امام کی تکبیر کا انتظار کئے بغیر فورا آتے ہی اللہ اکبر کہہ کر شریک ہوگیا تو بھی نماز درست ہوجائےگی، البتہ شریک ہوتے وقت اس نے جو تکبیر کہی، وہ ان چار تکبیروں میں شمار نہ ہوگی، جو نماز جنازہ میں فرض ہیں، لہذا جب امام سلام پھیردے تو اس پر لازم ہے کہ جو تکبیرات اس کے شامل ہونے سے پہلے ہوچکی تھیں، وہ اس مقدار میں تکبیرات پڑھ کر سلام پھیرے۔ تکبیرات رہ جانے کی صورت میں نماز میں شامل ہوتے وقت اگر اسے علم ہو کہ وہ کونسی تکبیر میں شامل ہوا ہے، تو پھر اس تکبیر کے بعد والی دعا پڑھے اور اگرعلم نہ ہو تو پھر ترتیب کے مطابق پہلے ثنا پڑھے، پھر درود پڑھے اور پھر دعا پڑھے۔

 

(والمسبوق) ببعض التكبيرات لا يكبر في الحال بل (ينتظر) تكبير (الإمام ليكبر معه) للافتتاح لما مر أن كل تكبيرة كركعة، والمسبوق لا يبدأ بما فاته. وقال أبو يوسف: يكبر حين يحضر (كما لا ينتظر الحاضر) في (حال التحريمة) بل يكبر اتفاقا للتحريمة، لأنه كالمدرك ثم يكبران ما فاتهما بعد الفراغ نسقا (بلا دعاء إن خشيا رفع الميت على الأعناق). (الدر المختار، كتاب الصلوة، باب صلاة الجنازة، ج:1، ص:130)

(قوله ثم يكبران إلخ) أي المسبوق والحاضر،۔۔۔۔وفي نور الإيضاح وشرحه أن المسبوق يوافق إمامه في دعائه لو علمه بسماعه، ولم يذكر ما إذا لم يعلم، وظاهر تقييده الموافقة بالعلم أنه إذا لم يعلم بأن لم يعلم أنه في التكبيرة الثانية أو الثالثة مثلا يأتي به مرتبا: أي بالثناء ثم الصلاة ثم الدعاء تأمل. (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الصلاة، باب صلاة الجنازة، ج:2، ص:318)


فتویٰ نمبر : 10197/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں