بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/11/2026 |
دارالافتاء
ادارے کے لوگو(logo)پر قرآنی آیت لکھنا
سوال
بعض تعلیمی اداروں کے لوگو((logoپر قرآنی آیت کا کچھ حصہ لکھا ہوتا ہےاور یہ لوگوبینرز، کلینڈر، چابی چین وغیرہ پر بھی پرنٹ ہوتاہے،بعض مرتبہ لوگ ان چیزوں کو ضائع کرتے ہیں اور یا کسی اور وجہ سے زمین پر گرتے ہیں، تو کیا ان چیزوں کو اس طرح ضائع کرنا بے ادبی یا گستاخی کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ اگرکسی چیز یا جگہ پرقرآنی آیات لکھنے کے بعد بے ادبی کا اندیشہ غالب ہو تو اس صورت میں قرآنی آیات لکھنے سے اجتناب کرنا چاہیے،البتہ اگر بے ادبی کا اندیشہ نہ ہو تو لکھنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔
صورت مسؤلہ کے مطابق کسی ادارے کے لوگو((logoپر اگر قرآنی آیت لکھی ہو ئی ہو تو شرعاًاس میں کوئی قباحت نہیں،البتہ ایسی چیزوں پر لوگو((logoلگانے سےاجتناب ضروری ہے جن کو لوگ عام حالات میں استعمال کرنے کے بعد ضائع کرتےہوں۔
"وقدمنا قبیل باب المیاہ عن الفتح: أنه تکرہ کتابة القرآن وأسماء اللّٰه تعالیٰ علی الدراهم والمحاریب والجدران وما یفرش وما ذاک إلا لاحترامه وخشية وطئه ونحوہ مما فیه إهانة فالمنع هنا بالأولیٰ ما لم یثبت عن المجتهد أو ینقل فیه حدیث ثابت. " (ردالمحتار،باب الشهيد، ج:3، ص:157)
"بساط أو مصلى كتب عليه الملك لله يكره بسطه والقعود عليه واستعماله، وعلى هذا قالوا: لا يجوز أن يتخذ قطعة بياض مكتوب عليه اسم الله تعالى علامة فيما بين الأوراق لما فيه من الابتذال باسم الله تعالى، ولو قطع الحرف من الحرف أو خيط على بعض الحروف في البساط أو المصلى حتى لم تبق الكلمة متصلة لم تسقط الكراهة، وكذلك لو كان عليهما الملك لا غير، وكذلك الألف وحدها واللام وحدها، كذا في الكبرى.إذا كتب اسم فرعون أو كتب أبو جهل على غرض يكره أن يرموا إليه؛ لأن لتلك الحروف حرمة."( الفتاوى الهندية، کتاب الکراهية، ج:5، ص:323)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 333
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 250
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 910
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 458
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 113
- کتاب النکاح | فتاوئ : 581
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 500
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 34
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 61
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 481
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 103
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 83
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 178
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 156
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 64
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 44
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 329
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1207
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 394
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 19
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں