بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/10/2026

دارالافتاء

 

غیر مدخول بہا عورت کو ایک طلاق دینے کے بعد تین طلاقیں دینا


سوال

میں نے یونیورسٹی میں اپنی کلاس کی لڑکی سے چھپ کر نکاح کیا۔ نکاح 23 مئی کو کیا۔ جب گھر والوں نے نکاح نامہ دیکھا تو انھیں غصہ آیا۔ انھوں نے آخر کار 8 اگست کو طلاق کروانے کا فیصلہ کیا۔ 10 اگست کو میں نے سادہ کاغذ پر ایک باری طلاق لکھ کر بھیج دی۔ اس بیچ میں ہم کبھی بھی نہ تنہائی میں ملے نہ رخصتی ہوئی۔ اس کے بعد قانونی تقاضہ پورا کرنے کے لئے میں 5 ستمبر یعنی کہ طلاق اول لکھنے کے 25دن بعد تین طلاق لکھ کر یونین کونسل میں یہ کاغذ بھی جمع کروادیا۔ کیونکہ 10 اگست والی طلاق پر ہی نکاح ختم ہوگیا تھا تو یہ بعد والی طلاق کاکیا مجھے حق تھا؟ اب یہ بتائیں کہ کیا لڑکی پر عدت ہے؟ کیا یہ طلاق اول بائن ہے یا پوری طلاق ہوگئی ہے؟ کیا میں اور وہ لڑکی دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں بغیر حلالہ کے؟

جواب

واضح رہے کہ طلاق جس طرح زبانی واقع ہو جاتی ہے اسی طرح اگر ایک شخص طلاق کی نیت سےبیوی کو طلاق کے الفاظ لکھ کربھیج دے تو اس سے بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے ۔

صورت مسؤلہ میں  اگر واقعی سائل نے  بیوی کو ایک طلاق لکھ کر بھیجی تھی اور بیوی غیر مدخول بہا تھی(یعنی ابھی تک اس کے ساتھ خلوت صحیحہ کی نوبت نہ آئی تھی)تو ایک طلاق بائن واقع ہو کر  بعد کی تین طلاقیں لغو شمار ہوں گی اس لئے کہ ان کے لئے محل با قی نہیں  تھا اب اگر وہ  دوبارہ  اپنے اسی شوہر کے ساتھ نکاح کر نے کی خواہش  رکھتی ہو  تو نئے مہر کے ساتھ بغیر حلالہ کےنکاح  کر سکتے ہیں تاہم آئندہ شو ہر کو  دوطلاقیں دینے کا اختیار ہوگا۔

 

قال الله تعالى:﴿:يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِن قَبْلِ أَن تَمَسُّوهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّونَهَا ۖ فَمَتِّعُوهُنَّ وَسَرِّحُوهُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًا.﴾  (سورة الأحزاب:49)

 عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: "‌إِذَا ‌طَلَّقَ ‌الْبِكْرَ ‌وَاحِدَةً ‌فَقَدْ ‌بَتَّهَا، وَإِذَا طَلَّقَهَا ثَلَاثًا لَمْ تَحِلَّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ."(مصنف ابن أبي شیبة کتاب الطلاق، في الرجل یتزوج المرأة ثم یطلقھا،ج:4 ص:18)

إذا طلق الرجل امرأته ثلاثا قبل الدخول بها وقعن عليها؛لأن الوقاع مصدر محذوف لأن معناه طلاقا بائنا على ما بيناه فلم يكن قوله أنت طالق إيقاعا على حدة فيقعن جملة " فإن فرق الطلاق بانت بالأولى ولم تقع الثانية والثالثة. " )الھدایة،کتاب الطلاق،فصل فی الطلاق قبل الدخول،ج:3،ص:167(

الكتاب كالخطاب. (شرح المجلة لسليم رستم باز ،المادة : 69،ص:49)


فتویٰ نمبر : 7047/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں