بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

زکوٰۃ کی مد میں پلاٹ دینا


سوال

 ایک شخص اپنا پلاٹ  زکوٰۃ کی مد میں کسی مستحق زکوٰۃ شخص کو دینا چاہتا ہے،وہ پلاٹ کل دس مرلہ ہے اور اس کی قیمت تیس لاکھ روپے ہے تو کیا یہ  پلاٹ زکوٰۃ کی مد میں کسی مستحق زکوٰۃ شخص کو دیا جاسکتا ہے ؟اگر دے سکتے ہیں تو اس کا طریقہ کار کیا ہو گا؟

جواب

شریعت مطہرہ کی رو سے زکوٰۃ کی ادا ئیگی میں بنیادی شرط تملیک ہے (یعنی مستحق  زکوٰۃ شخص کو  مالک) بنانا ہے چاہے زکوٰۃ نقد رقم کی شکل میں دی جائے یا  اس کے علاوہ کسی دوسری جنس سے دی جائےاور فقیر کو اس کا مالک بنا دیا جائے تو زکوٰۃ ادا ہو جائے گی۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر کوئی شخص زکوٰۃ کی مد میں کسی مستحق زکوٰۃ شخص کو  پلاٹ کا مالک بنا دے اور  فقیر کو  پلاٹ پر ہر قسم کے تصرفات  کا حق حاصل ہو جائے تو اس سے زکوٰۃ ادا ہو جائے گی۔

 

ويشترط أن يكون الصرف ( تمليكا ) لا إباحة۔(الدر المختار،كتاب الزكوة ،باب المصرف،ج:3ص291)

أما الذي يرجع إلى المؤدى  فمنها أن يكون مالا متقوما على الإطلاق سواء كان منصوصا عليه أو لا من جنس المال الذي وجبت فيه الزكاة أو من غير جنسه ۔(بدائع الصنائع ،كتاب الزكوة ،فصل فيما يرجع الى المؤدى،ج:2ص:461)


فتویٰ نمبر : 10192/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں