بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

دوران ملازمت وقفہ کا حکم


سوال

سوال :جناب میں ایک سرکاری  ادارےمیں مدرس ہوں جس میں تدریس کا دورانیہ صبح 8:15 بجے تا 2:20 بجے ہے اس دوران12:30 تا 1:40 وقفہ نماز ودرس قرآن ہے ۔ اب پوچھنا یہ کہ میرا گھر ادارے کےبالکل قریب ہے اس وقفہ کے دوران گھر جاکر کھانا کھاکر آنا شرعا میرے لئے جائز ہوگا یا نہیں؟

جواب

واضح   رہےکہ جو  ملازم ایک مخصوص دورانیہ میں اپنی خدمات مستاجر کوسپردکرنےسےاجرت کا  مستحق بنتا ہےوہ ''اجیر خاص "کہلاتا ہے، اجیر خاص اس مخصوص وقت میں حاضر رہنے کا پابند ہوتا ہے، وہ اس وقت میں اپنا ذاتی کام یا  کسی اور کے لیے کام نہیں کرسکتا ۔ہاں البتہ درمیان میں چھٹی یاتفریح کاجووقت ملتاہےوہ چائےپینے،کھانا کھانے ،یا دیگرشرعی ضروریات پوری کرنےکےلئےہوتاہےجس سےاس کے کام کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے اس لئے یہ وقت بھی ڈیوٹی میں شمار ہوتا ہے۔

           صورتِ مسئولہ میں سرکاری ادارےکاملازم بھی اجیر خاص ہےتاہم تدریس کے دوران وقفہ کے اوقات میں گھرجانے سے اگر اس کا عمل ِ تدریس متاثر نہیں ہوتاتو شرعا اس کو جانے کی اجازت ہوگی۔

 

(والثاني) وهو الاجير (الخاص) ويسمى أجير واحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتابالتخصيص ويستحق الاجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل(الدرالمختار ،ج:9،ص:94)

ولیس للخاص ان یعمل لغیرہ ، ولو عمل نقص من اجرتہ بقدر ما عمل(ـ الدر المختار، کتاب الاِجارۃ،باب ضمان الاَجیر ج:9 ص:96)


فتویٰ نمبر : 3668/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں