بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

نمازکے سجدوں میں ماثور دعائیں پڑھنا


سوال

مجھے ایک عالم دین نے وظیفہ دیا ہے( یاحی یاقیوم برحمتک نستغیث) کیا میں یہ فرض یا نفل نماز کے سجدوں میں پڑھ سکتا ہوں؟ اور سجدوں میں( اللھم انی اسئلک الصحة والعفة)  دعا پڑھنا کیسا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ فرض نماز کے سجدوں میں صرف سجدے کی تسبیح پڑھنا افضل ہے اس کے علاوہ دعائیں پڑھنامنقول نہیں، البتہ فرض نماز کے علاوہ سنت اور نفل نمازوں میں ماثور دعائیں پڑھنا جائز ہے، بشرطیکہ وہ کلام الناس کے مشابہ نہ ہوں یعنی کسی ایسی چیز کی دعا نہ کی جائے جس کا سوال بندوں سے بھی کیا جا سکتا ہو۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق سوال میں مذکورہ دعائیں سنت اور نفل نماز میں پڑھنا جائز ہے البتہ فرض نماز میں نہ پڑھی جائیں۔

 

(‌وليس ‌بينهما ‌ذكر ‌مسنون، ‌وكذا) ليس (بعد رفعه من الركوع) دعاء، وكذا لا يأتي في ركوع هوسجوده بغير التسبيح (على المذهب)، وما ورد محمول على النفل. (ردالمحتار على الدر المختار، باب صفة الصلاة، فروع قرأ بالفارسية، ج:1، ص:505)

وفي "الإيضاح": وقد فسره أصحابنا؛ أن ما يشبه كلام الناس ما لا يستحيل له سؤال من غيره (كقوله أعطني كذا؛ وزوجني امرأة، وما لا يشبه كلام الناس؛ ما يستحيل سؤاله من غيره) كقوله اغفر لي وما أشبه ذلك. (النهاية في شرح الهداية، باب صفة الصلاة، ج:2، ص:279)


فتویٰ نمبر : 10198/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں