بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

تین طلاق کے بعد ہمبستری کرنے سے عدت کی ابتدا


سوال

ایک بندے نے موبائل فون پر اپنی بیوی کو تین طلاقیں اکٹھی دے دیں اور چار پانچ دن بعد اہلِ حدیث کے فتوےپر عمل کرکے رجوع کر لیا اسی رجوع میں جو ہم بستری ہوئی اس سے وہ عورت حاملہ ہو گئی اب دو ماہ کا حمل ہے عورت دوسری جگہ نکاح کرنا چاہتی ہے اگر حمل ضائع کرواتے ہیں تو عدت کب سے ہو گی تینوں طلاقیں 30جون کی صبح 5بجے دی گئی تھیں۔

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی شخص بیوی کوتین طلاقیں دے، ليكن پهر  رجوع كرکے اس کو حلال سمجھ کر عدت میں اس کے ساتھ ہمبستری کرے اور پھر ان کو صحیح مسئلہ معلوم ہوجائے اور دونوں الگ ہوجائیں تو ان کے درميان جدائی  کےبعد عورت پر ایک اور عدت واجب ہو گی اور پہلی عدت طلاق دینے کے وقت سے اور دوسری عدت ان کے درمیان جدائی  کے وقت سے شروع ہوگی، نیز حاملہ عورت  کی عدت وضع حمل سے ختم ہوتی ہے خواہ حمل پہلی مرتبہ عدت کے وجوب کے وقت سے ہو یا عدت کے دوران  ٹھہر گیا ہو۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر کسی نے بیوی کو تین طلاق دینے کے بعد  اہل حدیث کے فتوی پر عمل کرکےعدت میں رجوع کیا ہو اور عدت میں  ہمبستری بھی  کی ہو جس سے وہ عورت حاملہ ہوگئی ہو تو اس عورت کی عدت وضع حمل سے ختم ہوگی، البتہ اگر حمل ضائع  کیا جائے تو اگر اس کے بعض اعضا ظاہر نہ ہوئے ہوں تو عدت ختم نہ ہوگی ، بلکہ اس کے بعد تین حیض گزارے گی۔

 

وإن كانت حاملا فعدتها أن تضع حملها " لقوله تعالى: {وَأُولاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ}. (الهداية، كتاب العدة، ج: 2، ص: 274)

وإذا أسقطت سقطا ‌استبان ‌بعض ‌خلقه ‌انقضت ‌به العدة؛ لأنه ولد وإن لم يستبن بعض خلقه لم تنقض؛ لأن الحمل اسم لنطفة متغيرة بدليل أن الساقط إذا كان علقة أو مضغة لم تنقض به العدة؛ لأنها لم تتغير فلا يعرف كونها متغيرة بيقين إلا باستبانة بعض الخلق كذا في المحيط.( البحر الرائق، باب العدة، ج: 4، ص:147)

وعدة الحامل أن تضع حملها كذا في الكافي. سواء كانت ‌حاملا ‌وقت ‌وجوب ‌العدة أو حبلت بعد الوجوب كذا في فتاوى قاضي خان ... طلق امرأته ثلاثا وكتم طلاقها عن الناس فلما حاضت حيضتين وطئها فحبلت، ثم أقر بطلاقها كان لها النفقة ما لم تضع الولد؛ لأن عدتها إنما تنقضي بوضع الحمل كذا في الفتاوى الكبرى.( الفتاوى الهندية، الباب الثالث عشر: في العدة،ج:1، ص: 526)


فتویٰ نمبر : 7031/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں