بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/08/2026

دارالافتاء

 

پانی کے لیے باندھے ہوئے بند سے سیرابی فصل میں مقدارعشر


سوال

ہمارے ہاں پہاڑوں سے آنے والے سیلاب کے پانی کے سامنے ایکسویٹر ، ٹریکٹر ٹرالی (بھاری مشینری) کے ذریعے بہت بڑا بند باندھا جاتا ہے جس کو یہاں کے لوگ "گٹہ بیلا" کا نام دیتے ہیں، جس پر ایک خطیر رقم خرچ ہوتی ہےمثلاً گزشتہ سال 2023 میں جو بند باندھا گیا تھا اس پر تقریباً 22 لاکھ روپے خرچ ہوئے تھے۔ پھر یہ رقم ان زمینداروں سے جن کی زمینیں اس پانی سے سیراب ہوتی ہیں فی کنال کے حساب سے وصول کی جاتی ہیں مثلاً گزشتہ سال فی کنال 120 روپے وصول کیے گئے تھے۔ اور یہ بند تقریباً ہر سال باندھا جاتا ہے۔ پھر اس بند سے بڑی بڑی کچی نہریں نکلتی ہیں پھر بعض لوگ ان بڑی نہروں سے اپنی زمینوں کو سیراب کرتے ہیں اوربعض لوگ ان بڑی نہروں سے چھوٹی نہریں نکال کران سے زمینیں سیراب کرتے ہیں،ان نہروں کی صفائی پر بھی ٹریکٹرکا خرچہ آتا ہے۔ اب مسئلہ یہ پوچھنا ہےکہ جن زمینوں کواس بند کے پانی سے سیراب کیا جاتا ہےان زمینوں کی پیداوارپرعشرواجب ہوگا یا نصف عشر؟

جواب

واضح رہے کہ جس فصل کی سیرابی بغیر کسی خرچ و مشقت کے محض قدرتی پانی سے ہو تواس میں عشر یعنی دسواں حصہ واجب ہوگا اورجس فصل کی سیرابی میں خرچ اورمشقت ہو تواس میں نصف عشر، یعنی بیسواں حصہ لازم ہوگا۔

صورت مسؤلہ کے مطابق جب زمین کی سیرابی کے لئے بارش کے پانی کوایک جگہ جمع کرنے کے لئے بند باندھ کرپھراس سےنہر یا نالوں کے ذریعےپانی  کھیتوں میں لاکراس سے فصل کو سیراب کیا جاتا ہو،اورسیرابی کے اس عمل میں محنت کرنی پڑتی ہواوررقم بھی خرچ کی جاتی ہوتو ایسی صورت میں اس میں نصف عشرواجب ہوگا۔

 

"تجب العشرفي(مسقى سماء)أي مطر(وسيح)كنهر...(و)يجب(نصفه في مسقى غرب) أي دلو كبير (ودالية) أي دولاب لكثرة المؤنة. قوله:(لکثرةالمؤنة) علة لوجوب نصف العشرفيما ذكر...ولو رفعت المؤنة كان الواجب واحداً،وهوالعشر داىٔماً."(ردالمحتار،كتاب الزكوٰة،باب العشر،ج:3،ص265-269)


فتویٰ نمبر : 10236/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں