بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

سوتیلے بھائی کی پوتی سے نکاح کرنا


سوال

شہزاد نے دو شادیاں کیں ، ایک بیوی سے دلشاد اوردوسری بیوی سے ساحل پیدا ہوئے، ساحل نے شادی کی جس سے مستقیم پیدا  ہوا پھر مستقیم نے شادی کی تو اس سے دو بیٹیاں ایک زعفرانی اور ایک آسیہ پیدا ہوئیں ۔۔۔ تو پوچھنا یہ ہے کہ مستقیم کی بیٹی زعفرانی سے دلشاد نکاح کرناچاہتا ہے تو کیا یہ نکاح درست ہے؟

جواب

شریعتِ مطہرہ نےقرابت کی وجہ سے جن محرمات کے ساتھ نکاح کو حرام قراردیا ہے ، ان میں بھائی کی اولاد بھی شامل ہے، چاہے  بھائی حقیقی ہو یا سوتیلا، نیز جس طرح بھائیوں کی اولاد کے ساتھ نکاح حرام ہے اسی طرح اولاد کی اولاد کے ساتھ بھی نکاح حرام ہے۔

لہذاصورتِ مسئولہ میں چونکہ زعفرانی دلشاد کے سوتیلے بھائی (ساحل) کی پوتی ہے، اس لیے قرابت کی  وجہ سے ان دونوں کا نکاح حرام ہے۔

 

قال اللہ تعالی: ﴿حُرِّمَتۡ عَلَيۡكُمۡ أُمَّهاتُكُمۡ وَبَنَاتُكُمۡ وَأَخَوٰاتُكُمۡ وَعَمّاتُكُمۡ وَخَالاتُكُمۡ وَبَنَاتُ ٱلۡأَخِ وَبَنَاتُ ٱلۡأُخۡتِ﴾ ۔(سورۃ النساء:23)

قولہ تعالٰی: {وأخواتكم} لأب وأم أو لأب أو لأم {وعماتكم} من الأوجه الثلاثة {وخالاتكم} كذلك {وَبَنَاتُ الأخ} كذلك {وَبَنَاتُ الأخت} كذلك ۔ (مدارک التنزیل و حقائق التاویل، ج: 1،ص: 244)

وتحرم عليه بنات الأخ وبنات الأخت بالنص، وهو قوله تعالى: {وبنات الأخ وبنات الأخت} [النساء: 23] وبنات بنات الأخ والأخت وإن سفلن بالإجماع۔(بدائع الصنائع ،کتاب النکاح، فصلٌ في المحرمات بالقرابۃ،ج:3، ص:410)


فتویٰ نمبر : 7033/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں