بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

قرض کے بدلے مقروض کی چیز کو بیجنا


سوال

ایک شخص کا دوسرے کے اوپر قرض تھا اب وہ شخص اس قرض کو ادا نہیں کر رہا ،تو جس کا قرض ہےاس نے مقروض شخص سے ایسا موٹر سائیکل چھین لی ہے، جس کے کاغذات ابھی تک مقروض کو نہیں ملے تھے تو اب قرض خواہ کا اس موٹرسائیکل کاآگے بیچنا کیسا ہے؟ 

جواب

واضح رہےکہ جب مقروض قرض واپس کرنےمیں ٹال مٹول سےکام لیتاہو، توقرض خواہ کویہ اختیارحاصل ہے کہ اسکے خلاف قانونی کارروائی  کرےیعنی عدالت  کو رجوع  کرکے قرض دار کے خلاف  مقدمہ درج کرے۔ لیکن قرض خواہ کو یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ وہ قرض دار کی اجازت کے بغیر اسکی کوئی چیز لے کر بیچ دے خاص کرجب وہ  چیز  قانونی طور پربھی اس کی نہ ہو۔

لہذاصورتِ مسئولہ میں قرض خواہ اپنا حق وصول کرنے کی خاطرقرض دار کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرسکتا ہے لیکن اس سےموٹر سائیکل ضبط کرکے نہیں بیچ سکتا۔

 

قال الله تعالى:﴿وَلَاتَأْكُلُواأَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُوابِهَاإِلَى الْحُكَّامِ لِتَأْكُلُوافَرِيقًامِّنْ أَمْوَالِ النَّاسِ بِالْإِثْمِ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ﴾(سورة البقرة:188)

ولهذا كان للقاضي أن يقضي بها دينه من غير رضا المطلوب بحر. قلت: وهذا موافق لما صرحوا به في الحجر. ومفاده أنه ليس للدائن أخذ الدراهم بدل الدنانير بلا إذن المديون ولا فعل حاكم. (ردالمحتارعلی الدرالمختار، كتاب السرقة،ج:6، ص:158)


فتویٰ نمبر : 3675/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں