بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

انبیاےکرام علیہم السلام کے متعلق فلمیں دیکھنا


سوال

انبیاے کرام علیہم السلام کے متعلق فلمیں حرام جاننے کے باوجود دیکھنےسے  بندہ دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ تصویر یا فلم کے ذریعہ انبیاےکرام علیہم السلام کی شکل وشباہت اور ان کی سیرت وکردار کو فرضی شکلوں میں پیش کرنا متعدد مفاسد پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ناجائز اور گناہ کبیرہ ہے، لہذا اس قسم کی تصویر سازی کرنا، فلم بنانا، اس کو دیکھنا یا دوسروں کو دکھانا ناجائز اور سخت گناہ ہے، اس طرح کی فلموں کو "اسلامی فلمیں" کہنا بھی ناجائز اور گناہ ہے،اس کے علاوہ بہت سی ممنوع چیزیں ان فلموں میں پائی جاتی ہیں، جیسے نا محرم عورتوں کے ساتھ اختلاط رکھنا، قصوں کی غلط بیانی اور قرآن وسنت کے آداب کی مخالفت وغیرہ ،لہذا ان ویڈیوز کا دیکھنا جائز نہیں۔ایک نقصان اس میں یہ بھی ہے کہ ان فلموں کے دیکھنے کے بعد ذہن میں انبیاےکرام علیہم السلام کی ایک تصویر ذہن نشین ہو جاتی ہے، اور آئندہ زندگی میں جب بھی اس مبارک نبی کا ذکر آتاہے ، خواہ وہ قرآن مجید پڑھتے ہوئے ہی کیوں نہ ہو، تو ذہن میں وہی تصویر سامنے آجاتی ہے جو ان فلموں میں نبی کی شکل میں پیش کی گئی تھی،حالانکہ وہ فاسق اور فاجر لوگ ہوا کرتے ہیں۔ دوسرا نقصان یہ بھی ہے کہ فلم میں بیان کردہ معلومات ذہن میں راسخ ہونے کے بعد اس کےصحیح اور مستند کتابوں میں مذکورہ باتوں کو بھی انسان کے لیے قبول کرنا مشکل ہو تا ہے، کیونکہ انسان نفسیاتی طور پر تصویر کا اثر زیادہ لیتا ہے،اگرچہ یہ فلمیں تاریخ یا معلومات کی غرض سے دیکھی جائیں بہر حال ناجائزاورحرام ہے،اس لیے ان فلموں سے اجتناب اشد ضروری ہے ۔

 لہذاصورتِ مسئولہ میں انبیاے کرام علیہم السلام کے متعلق فلمیں دیکھناگناہ ہونے کی وجہ سے حرام اور ناجائز ہے،البتہ حرام جاننے کے باوجود دیکھنے سے دیکھنے والا دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوتا،تاہم توبہ کر کے آئندہ اس سے احتراز کرنا چاہیے۔

 

ولا نكفّر من اهل القبلةبذنبٍ،ما لم يستحله.(متن العقيدةالطحاويةللإمام ابي جعفر الطحاوي،ص: (15

ولكبيرةغير الكفر لاتخرج العبد المؤمن من الايمان''لبقاءالتصديق الذى هو الإيمان......... ''ولا تدخله''اى العبد المؤمن''فى الكفر''.

(شرح العقائدالنسفيه،ص:276،المكتبةالبشرىٰ)


فتویٰ نمبر : 6045/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں