بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بغیر اذان و اقامت کے جماعت پڑھنا


سوال

ایک سکول میں  pm 12:30پر نماز با جماعت بغیر اذان واقامت کے ہوتی ہے اور کچھ اساتذہ 1:15 pm پرچھٹی کے بعد با جماعت بغیرآذان واقامت کے پڑھتے ہیں جبکہ باہر مساجد میں pm 12:45پر اذان ہوتی ہے، اب پوچھنا یہ ہے کہ سکول میں اس طرح پڑھی جانے والی نمازوں کا کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ باجماعت فرض نمازکی ادائیگی کے لیےاذان اوراقامت دینا سنت مؤکدہ ہے، اس کے چھوڑنے سے نماز مکروہ ہو جاتی ہے، البتہ اگرمسجد کے علاوہ کسی ایسی جگہ نماز پڑھنی ہو جس کے قریب کسی مسجد میں اذان ہوچکی ہو تو اس جگہ اذان و اقامت کے بغیر نماز باجماعت ادا کرنا جائز ہوگا اور اگر قریب کی مساجد میں اذان نہ ہوئی ہو تو پھر اذان واقامت کے بغیر نماز باجماعت ادا کرنا مکروہ ہوگا، تاہم اگر صرف اذان ترک کی گئی اور اقامت پڑھی گئی تواس کی بھی گنجائش ہے۔

لہذا صورت مسئولہ میں پہلی جماعت جو محلہ کی اذان سے پہلےادا کی جاتی ہے اور اس کے لئے نہ اذان دی جاتی ہے اور نہ اقامت تو یہ کراہت کے ساتھ ادا ہوجاتی ہے، اسی طرح دوسری جماعت سے پہلےاگر باہراذان ہوئی ہو تو ان کو چاہئے کہ جماعت سے پہلے اقامت کریں، اقامت چھوڑنا  کراہت سے خالی نہیں۔

 

 ويكره أداء المكتوبة بالجماعة في المسجد بغير أذان وإقامة. كذا في فتاوى قاضي خان ولا يكره تركهما لمن يصلي في المصر إذا وجد في المحلة ولا فرق بين الواحد والجماعة. هكذا في التبيين والأفضل أن يصلي بالأذان والإقامة كذا في التمرتاشي وإذا لم يؤذن في تلك المحلة يكره له تركهما ولو ترك الأذان وحده لا يكره كذا في المحيط ولو ترك الإقامة يكره. كذا في التمرتاشي ۔(الفتاوٰی الھندیۃ،کتاب الصلاۃ،الباب الثانی فی الاذان،جلد:1 ،ص:111 )


فتویٰ نمبر : 10215/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں