بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 13/08/2026

دارالافتاء

 

طلاق کو زنا سےمعلق کر کے اغلام بازی کر نا


سوال

ایک شخص زنا کا عادی تھا،اس نے زنا سے رکنے کےلئے کہا کہ:’’ اگرمیں نےاس بارزنا کیاتو جب میں شادی کروں گا،یا جب میرا نکاح ہوگا، یا کروں گا(ان تینو ں میں ایک کہا)تو میری بیوی کوطلاق ہووہ مجھ پرحرام ہوگی‘‘۔ غالب گمان یہ ہےکہ ایک بارکہاہے۔ کچھ عرصہ بعدماحول مہیاہوکرخواجہ سرایعنی کھسرےکےساتھ اغلام بازی کرلی۔توکیااس اغلام بازی کرنے سےلگائی گئی زناکی شرط پوری ہوکرنکاح کرنےکےبعدبیوی کو طلاق ہوجائےگی،یاابھی تک شرط پوری نہیں ہوئی ہے؟

جواب

اگرکوئی شخص طلاق کوکسی شرط سےمشروط کرناچاہے، تواس کےلئےضروی ہےکہ وہ یاتوطلاق کامالک ہو،یاملک اورسبب ملک میں سےکسی کی طرف نسبت کرےنیزجب تک شرط موجودنہ ہوئی ہوطلاق واقع نہ ہوگی،اورجب شرط موجود ہوجائےتوطلاق واقع ہوجائی گی۔

مسؤلہ صورت میں جس شخص یہ کہاکہ اگرمیں نےاس بارزناکیاتوجب میں شادی کروں گایاجب میرانکاح ہوگایاکروں گاتومیری بیوی کوطلاق ہوگی ہووہ مجھ پرحرام ہوگی،چونکہ ان الفاظ میں نکاح کےبعدطلاق کےوقوع کوزناکےساتھ مشروط کیاگیاہےاس لئےجب تک زنا صادرنہ ہوئی ہوشرط پوری نہ ہوگی۔مذکورہ صورت میں چونکہ اٖغلام بازی کاارتکاب کیاہےجوکہ زناکی طرح بدترین جرم ہے،لیکن شرط پرپورانہ اترنےکی وجہ سےاغلام بازی سےطلاق واقع نہیں ہوگی ہے،لہذااگراس کےبعدنکاح کرےگاتوکوئی طلاق واقع نہ ہوگی۔

 

وإذاأضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقامثل أن يقول لامرأته:إن دخلت الدارفأنت طالق ولاتصح إضافةالطلاق إلاأن يكون الحالف مالكاأويضيفه إلى ملك والإضافةإلى سبب الملك كالتزوج كالإضافةإلى الملك۔(الفتاوی الھندية،کتاب الطلاق،الباب الرابع فی الطلاق بالشرط و نحوہ،الفصل الثالث:ج:1،ص:488)

 ولأبي حنيفة ماذكرناأن اللواطة ليست بزنا؛لماذكرناأن الزنااسم للوطء في قبل المرأة،ألاترى أنه يستقيم أن يقال:لاط وما زنى، وزنى ومالاط، ويقال:فلان لوطي وفلان زاني،فكذايختلفان اسما،واختلاف الأسامي دليل اختلاف المعاني في الأصل۔(بدائع الصنائع ،کتاب الحدود،فصل فی سبب وجوبھا ،ج:9،ص:185)

قال العلامةدامادآفندي:"وفي المنح والصحيح قول الامام"(مجمع الأنهرفي شرح ملتقى الأبهر،كتاب الحدود،باب الوطئ الذي يوجب الحدوالذي لا يوجبه:ج:1،ص:594)


فتویٰ نمبر : 7053/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں