بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

طلاق دینے کی صورت میں جرگہ والوں کا شوہر سے تاوان لینا


سوال

اگر کسی علاقے کا عرف یہ ہوکہ شوہر کے طلاق دینے کی صورت میں جرگہ والے زجر و سزا کے طور پر شوہرسےتاوان رقم کی صورت میں لیتے ہوں تو شرعا اس کا کیا حکم ہے؟ نیزاس سلسلہ میں جرگہ قضاء کا بدل بن سکتا ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ اسلام میں طلاق کا اختیار شوہر کو حاصل ہے لہذا شوہر جب طلاق دے تو اس سے تاوان نہیں لیا جاسکتا۔ نیز جرگےوالوں کے فیصلہ کا شرعی اصولوں کے موافق ہونا ضروری ہے۔

لہذا صورت مسؤلہ کے مطابق اگر کسی علاقے میں زعمائے جرگہ شوہر سے بیوی کو طلاق دینے کی صورت میں تاوان لیتے ہوں تو شرعایہ جائز نہیں، کیونکہ تاوان جرم کی صورت میں لیا جاتاہےجبکہ طلاق دیناجرم نہیں  کیونکہ طلاق دینے کی شریعت نے اجازت دی ہے۔

 

قال في الفتح ومنها أي من محاسنه جعله بيد الرجال دون النساء لاختصاصهن بنقصان العقل وغلبة الهوى ونقصان الدين۔ (ردالمحتار على الدرالمختار، كتاب الطلاق، ج:4، ص:429)

"لا يجوز لأحد من المسلمين أخذمال أحد بغير سبب شرعي" ۔ (البحرالرائق فصل في التعزير،  ج:5،  ص:44، دار الکتب العلمیة)


فتویٰ نمبر : 5981/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں