بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

شوہر کا بیوی کورخصتی سے پہلےمہر کے علاوہ سونا دینا


سوال

ایک عورت دوسرے شخص کے نکاح میں تھی،  رخصتی کے بعداس نے اس پر ظلم و تشدد شروع کیا،حتیٰ کہ  رخصتی کے چار ماہ بعد اس کو قتل کرنے کی کوشش بھی کی جس سے وہ شدید زخمی ہوگئی اورپھر شوہر اور اس کے خاندان والوں نے اس کے علاج سے انکار کر دیا، تو عورت کے خاندان والوں نے شوہر سے علاج کی اجازت لے کر ہسپتال میں داخل کرا دیا، صحت یابی کے بعدشوہر نے اپنے گھر لے جانے سے انکار کر دیا، عورت کے خاندان والوں نے مصالحت کے لیے ان پربہت دفعہ جرگے وغیرہ بھی  کئے لیکن انہوں نے انکار کر دیا ،ساڑھے چار سال گزرنے کے بعداسےطلاق دےدی۔ اب سوال یہ ہے کہ اگرشوہر مہر کے علاوہ سونے کو جو عورت کے لیے بنایاگیا تھا، اور رخصتی سےتین دن پہلےعورت کو حوالہ کیا تھا، کیا یہ سونا عورت کا حق بنتا ہے یا نہیں؟ ہمارے علاقے اور عرف میں یہ ترتیب ہے کہ بیوی کے لیے اگر شوہر مہر کے سونے کے علاوہ سونا بنا لے تو طلاق دینے کی صورت میں جرگے اور شوہر کی رضامندی سےوہ بھی بیوی کو دینا لازمی ہوتا ہے۔

جواب

 

واضح رہے کہ لڑکی کورخصتی سے پہلے مہر کے علاوہ جو زیورات شوہر کی طرف سے ملتے ہیں، ان میں تفصیل ہے کہ اگر زیورات دیتے وقت  شوہرنے اس بات کی صراحت کی ہو کہ یہ بطورِعاریت یعنی صرف استعمال کرنے کے لیے ہیں تو زیورات شوہر کی ملکیت ہوں گے، اور اگر شوہر نےہبہ (گفٹ) کے طور پر دیے ہوں توزیورات بیوی کی ملکیت شمار ہوگی اور اگر زیورات دیتے وقت کسی قسم کی صراحت نہیں  کی تو پھرعرف کا اعتبار ہوگا، اگرعرف و رواج بطورِ ملک دینے کا ہو تو اس صورت میں زیورات لڑکی کی ملکیت ہوگی، اور اگر  بطورِ عاریت دینے کا رواج ہو تو پھرشوہرہی مالک ہوگا۔

لہذا صورت مسؤلہ کے مطابق اگر شوہر نے مہر کے علاوہ بنایا گیا سونا بیوی کو رخصتی سے پہلے بطور ہبہ اس کی ملکیت میں دیا ہو یا عرف و رواج میں ہبہ کے طور پر دیا جاتا ہو تو یہ سونا بیوی کا حق شمار ہوگا، لہذا طلاق کے بعد بھی اس کی حقدارہوگی۔

 

‌‌وإذا ‌بعث ‌الزوج ‌إلى ‌أهل ‌زوجته أشياء عند زفافها منها ديباج فلما زفت إليه أراد أن يسترد من المرأة الديباج ليس له ذلك إذا بعث إليها على جهة التمليك، كذا في الفصول العمادية۔ (الفتاوى الهندية، الباب السابع في المهر، الفصل السادس عشر في جهاز البنت، ج:1، ص:328)

ومن ‌ذلك ‌ما ‌يبعثه ‌إليها ‌قبل ‌الزفاف في الأعياد والمواسم من نحو ثياب وحلي، وكذا ما يعطيها من ذلك أو من دراهم أو دنانير صبيحة ليلة العرس ويسمى في العرف صبحة، فإن كل ذلك تعورف في زماننا كونه هدية لا من المهر ولا سيما المسمى صبحة، فإن الزوجة تعوضه عنها ثيابها ونحوها صبيحة العرس أيضا۔ (رد المحتار، باب المهر، مطلب فيما يرسله إلى الزوجة، ج:3، ص:153)


فتویٰ نمبر : 7010/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں