بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

عورت کا گزشتہ سالوں کے نفقہ کا مطالبہ کرنا


سوال

اگر كوئی شوہر اپنی بیوی کو گھر میں نہ چھوڑتا ہو حالانکہ وہ نا فرمان بھی نہ ہو، اور نہ شوہر طلاق دیتا ہو اور وہ والدین کے گھرجا کر ساڑھے چار سال گزارلے اور شوہر چار سال گزرنے کے بعد طلاق دے دے تو عورت یا اس کے خاندان والےان ساڑھے چار سال کا نفقہ مانگ سکتے ہیں یا نہیں؟ اگر عرف یہ ہو کہ جرگہ بعد میں اس نفقہ کو شوہر سے وصول کرتا ہو تو اس کا شرعی حکم کیا ہوگا؟

جواب

نکاح منعقد ہونے کے بعد شوہر کے ذمے بیوی کے جو حقوق واجب ہوتے ہیں، ان میں سے نان و نفقہ بھی ہے۔ تاہم اگر شوہر نے کچھ مدت تک بیوی کو نان و نفقہ فراہم نہ کیا تواگر قاضی نے شوہر کے ذمے پہلے سے نفقہ کی مقدارمتعین کی تھی یا میاں بیوی کے مابین کسی مقدار پر اتفاق ہوا تھا تو شوہر کے ذمے اس کی ادائیگی لازم ہوگی، ورنہ نہیں۔ نیز روٹھی ہوئی بیوی کا نفقہ اس صورت میں ساقط ہوتا ہے جب وہ شوہر کی نافرمانی کرے اور اس کے حکم کے باوجود اس کے پاس نہ لوٹے، لہذا اگر کوئی عورت اپنے شوہر کے پاس لوٹنا چاہتی ہو لیکن شوہر اس کو اپنے گھر میں نہیں لوٹانا چاہتا ہو تو شوہر کے ذمے سے اس کا نفقہ ساقط نہیں ہوتا۔

 صورت مسؤلہ کے مطابق اگرکوئی شوہربیوی کو گھر میں نہ چھوڑتا ہو جبکہ وہ نافرمان بھی نہ ہو، اور نہ طلاق دیتا ہو اور وہ والدین کے گھر جا کرساڑھے چار سال گزار لے اوراس کے بعد شوہر طلاق دے دے تو اگرشوہر کے ذمے پہلے سے قاضی نے نفقہ کی مقدار متعین نہ کی ہو اورنہ میاں بیوی کے مابین کسی مقدار پراتفاق ہوا ہو تو عورت اور اس کے خاندان والے گزرے ہوئے چار سالوں کا نفقہ نہیں مانگ سکتے، البتہ اگرعلاقہ کا عرف یہ ہو کہ عورت کی طرف سے نافرمانی نہ ہونے کے باوجود اس کا نفقہ روکنے پرفریقین کی طرف سے مقررہ جرگہ(حکم) بعد میں شوہر سےتعزیرا نفقہ وصول کرکےعورت کو دیتا ہو تو اس صورت میں عورت کا اس نفقہ کو لینا جائز ہے۔

 

‌وإذا ‌مضت ‌مدة ‌لم ‌ينفق الزوج عليها وطالبته بذلك فلا شيء لها إلا أن يكون القاضي فرض لها النفقة أو صالحت الزوج على مقدار نفقتها فيقضي لها بنفقة ما مضى۔ (الهداية، كتاب الطلاق، باب النفقة، ج:2، ص:444)

والمعنى في ذلك ‌أن ‌النفقة ‌إنما ‌تجب عوضاً عن الاحتباس في بيت الزوج، فإذا كان الفوات لمعنى من جهة الزوج أمكن أن يجعل ذلك الاحتباس باقياً تقديراً، أما إذا كان الفوات بمعنى من جهة الزوجة لا يمكن أن يجعل ذلك الاحتباس باقياً تقديراً وبدونه لا يمكن إيجاب النفقة۔ (المحيط البرهاني، كتاب النفقات، ‌‌الفصل الأول في نفقة الزوجات، ج:3، ص:522)

النفقۃ واجبۃ للزوجۃ  علی زوجھا مسلمۃ کانت أو كافرة إذا سلمت نفسها إلى منزله،فعليه نفقتها  وكسوتها  وسكنها۔(الهداية، كتاب الطلاق، باب النفقة، ج:2، ص441)

وفي الخلاصة سمعت عن ثقة أن التعزير بأخذ المال إن رأى القاضي ذلك أو الوالي جاز ومن جملة ذلك رجل لا يحضر الجماعة يجوز تعزيره بأخذ المال۔ (البحر الرائق، فصل في التعزير، ج:5، ص:44)


فتویٰ نمبر : 7011/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں