بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 27/10/2026 |
دارالافتاء
غیر مسلم ملک کے مسلم شہری کا مسلمان کے خلاف لڑائی میں شریک ہونا
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ غیرمسلم ممالک میں مقیم مسلمان نوجوان اگر ان ممالک کی افواج میںبھرتی ہوتے ہیں اور ان کی لڑائی کسی مسلمان ملک کے خلاف ہوتی ہے اور یہ جوان اس لڑائی میں مارے جاتے ہیں یا دو مسلم ممالک کا آپس کے لڑائی میں مارے جانے والے نوجوانوں کا کیا حکم ہوگا ، انہیں شہید مانا جائے گایا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ اگر کوئی مسلمان غیرمسلم ملک کا باشندہ ہو اور اس کو وہاں کی شہریت اور نیشنلٹی حاصل ہو ،تواس پر حکومت کی طرف سے وضع کردہ قوانین لاگو ہوں گے،جس طرح کہ یہ قوانین وہاں کے غیر مسلم باشندوں پر لاگوہوتے ہیں،نیزاس کو بھی وہاں کے غیر مسلم باشندوں کی طرح حقوق اور سہولتیں حاصل ہوں گی۔چنانچہ جس طرح وہاں کے غیر مسلم باشندوں کو اپنے ملک کے استحکام ،آزادی ،سرحدات کی حفاظت اورملک کی دفاع کی خاطر وہاں کی فوج میں بھرتی ہونے کاحق حاصل ہے ،اسی طرح وہاں کے مسلمان باشندوں کے لئے بھی اندرونی اور بیرونی خطرات سے محفوظ رہنے اور ملک کی دفاع کی خاطر وہاں کی فوج یاپولیس میں بھرتی ہونے اورغیرمسلموں کے ساتھ ملازمت کرنے کی گنجائش ہے۔تاہم اگراس کے علاوہ کوئی اور جائز ذریعہ معاش ہوسکتاہو تو فوج میں بھرتی ہونا اس کے لیے کوئی ضروری نہیں ہے۔لہذا جن عہدوں پر ہوتے ہوئے اسلام اور مسلمانوں کےاذلال اور بے عزتی لازم آتی ہو تو اس قسم کےعہدوں سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔
لہٰذاصورت مسؤلہ میں غیر مسلم ملک کے مسلمان باشندہ کے لئے وہاں کی فوج یا پولیس میں بھرتی ہونے کی بجائے اس کا متبادل سوچنا چاہیے۔اور مسلمان کے خلاف لڑائی میں شرکت نہیں کرنا چاہیے،کیونکہ اس میں اسلام اور مسلمانوں کا اذلال ہے۔ تاہم اس پرشہیدکا حکم جاری نہیں ہوگا۔
عن مسروق: حدثنا خباب قال:كنت رجلا قينا، فعملت للعاص بن وائل، فاجتمع لي عنده، فأتيته أتقاضاه، فقال: لا والله لا أقضيك حتى تكفر بمحمد. فقلت: أما والله حتى تموت ثم تبعث فلا. قال: وإني لميت ثم مبعوث؟ قلت: نعم، (الصحیح للبخاری،کتاب الإجارۃ، باب ھل یؤاجرالرجل نفسہ من مشرک في أرض الحرب،ج :2ص:600)
أورد فيه حديث خباب وهو إذ ذاك مسلم في عمله للعاص بن وائل وهو مشرك وكان ذلك بمكة وهي إذ ذاك دار حرب واطلع النبي صلى الله عليه وسلم على ذلك وأقره ولم يجزم المصنف بالحكم لاحتمال أن يكون الجواز مقيدا بالضرورة أو أن جواز ذلك كان قبل الإذن في قتال المشركين ومنابذتهم وقبل الأمر بعدم إذلال المؤمن نفسه وقال المهلب كره أهل العلم ذلك إلا لضرورة بشرطين أحدهما أن يكون عمله فيما يحل للمسلم فعله والآخر أن لا يعينه على ما يعود ضرره على المسلمين فتح الباری،لابن حجرالعسقلانی کتاب الإجارۃ،باب: ھل یؤاجرالرجل نفسہ من مشرک في أرض الحرب،ج:5 ص:213)
قلت: وجهه هو أن المقاتلة إذا وقعت بين المسلمين والمشركين [وأجلوا عن قتيل في مكان في دار الإسلام ولا يدرى من قتله من المسلمين أو المشركين] يرجح احتمال قتل المشركين حملًا لأمر المسلمين على الصلاح؛ ولهذا جعل شهيدًا [لأنه لو جعل قتيل المسلمين لا يكون شهيدًا] لاستحقاق الدّية على أهل ذلك المكان حينئذ، والشهيد من يكون عوض دمه على الله؛ قال الله تعالى: {إِنَّ اللَّهَ اشْتَرَى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ} فلما ترجح هذا الاحتمال لهذا المعنى تعين أنه قتيل أهل الشرك.(النهاية في شرح الهداية،كتاب الديات،باب القسامة،ج:25،ص:81)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 331
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 248
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 907
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 458
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 113
- کتاب النکاح | فتاوئ : 578
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 499
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 34
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 479
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 103
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 83
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 64
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 328
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1203
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 391
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں