بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

بینک کو بلڈنگ کرایہ پر دینا


سوال

 میرا ایک ذاتی بلڈنگ ہے ، جو  ایک بینک کرایہ پر لینا چاہتا ہے،جو مجھ ماہانہ فکس کرایہ دیگا۔ اس کو میں یہ بلڈینگ کرایہ پر دے سکتا ہوں یا نہیں؟

جواب

شريعت نے مالک کو اپنی مملوکہ چیز اجارے پر دینے کا حق دے رکھا ہے ،لیکن اس شرط کے ساتھ کہ اس سے شرعی حدود پامال نہ ہوں۔

موجودہ دور میں جو روایتی سودی بینک ہیں، ان کو بلڈنگ کرایہ پر دینا جائز نہیں۔ اس لیے کہ یہ گناہ کے کام میں تعاون کے زمرے میں آتا ہے، چنانچہ  اس سے احتراز  لازم ہے۔ البتہ جو بینک اسلامی اصولوں کےمطابق،اورمستند علمائےکرام کی نگرانی میں  کام کرتے ہیں، ان کے ساتھ کرایہ داری کا معاملہ کرنے میں کوئی حرج نہیں۔

 

قال الله تعالى:﴿وَتَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡبِرِّ وَٱلتَّقۡوَىٰۖ وَلَا تَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡعُدۡوَٰنِۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَۖ إِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ الۡعِقَابِ﴾ (سورةالمائدة، الآية:2)

"وقوله تعالى: ‌وتعاونوا ‌على ‌البر ‌والتقوى ‌ولا ‌تعاونوا ‌على ‌الإثم ‌والعدوان ‌يأمر ‌تعالى ‌عباده ‌المؤمنين ‌بالمعاونة ‌على ‌فعل ‌الخيرات ‌وهو ‌البر، وترك المنكرات وهو التقوى وينهاهم عن التناصر على الباطل والتعاون على المآثم والمحارم،"(تفسیر ابن کثیر،سورةالمائدة،الآية:2،ج:3،ص:10)

‌" قال - ‌رحمه ‌الله -: (‌وإجارة ‌بيت ‌ليتخذه ‌بيت ‌نار ‌أو ‌بيعة ‌أو ‌كنيسة ‌أو ‌يباع ‌فيه ‌خمر ‌بالسواد) ‌أي ‌جاز ‌إجارة ‌البيت ‌ليتخذه ‌معبدا ‌للكفار والمراد ببيت النار معبد المجوس، وهذا عند أبي حنيفة - رحمه الله -، وقالا لا ينبغي أن يكريه لشيء من ذلك؛ لأنه إعانة على المعصية، …"(تبیین الحقائق،کتاب الکراهيه،فصل فى البيع،ج:6،ص:29)

لا ‌تصح ‌الإجارة ‌. . . لأجل المعاصي مثل الغناء والنوح والملاهي. (الدر الختار مع رد الحتار،كتاب الاجارة، مطلب في الاستئجار على الطاعات،ج:6،ص:55.)


فتویٰ نمبر : 3649/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں