بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

بالغ لڑکیوں کو پڑھانے کا حکم


سوال

ایک مدرسے میں لڑکیاں جنکی عمر 12 سال سے لے کر16۔17  سال ہے اور وہ بچیاں برقعہ اوڑھ کر مکمل پردے کے ساتھ گھروں سے آتی ہیں اور اسی طرح مکمل پردے کے ساتھ دستانوں اور موزوں کے ساتھ گھر جاتی ہیں اور درسگاہ میں بھی موزوں کے ساتھ بیٹھتی ہیں لیکن صرف چہرہ اور دونوں ہاتھ ہتھیلی تک کھلے رہتے ہیں اور استاد اپنے سامنے ان کو بٹھا کر پڑھاتا ہے جبکہ استاد اور بچیوں کے درمیان ایسی تپائی ہے جو نیچے تک بالکل بند ہے اور مزید دیگر لڑکےبھی اور استاد بھی ایک ہی جگہ کچھ فاصلےپربیٹھتے ہیں ،الگ اور بند کمرے میں کوئی نہیں بیٹھتا سب ایک دوسرے کے سامنے پڑھاتے ہیں تو کیا اس طرح بڑی بچیوں کو پڑھانا جائز ہے؟

جواب

اس میں کوئی شک نہیں کہ قرآن کریم    کی تعلیم حاصل کرنا  ہر مسلمان کے لیے بہت بڑی سعادت اور  ثواب کا عمل ہے  ۔مردوں کی طرح عورتوں کو بھی  اس کے حصول   کا اہتمام کرنا چاہیے  ۔تاہم عورتوں  کی تعلیم میں حد درجہ  احتیاط کرنا  ضروری ہے  اور احتیاط کا تقاضا یہ ہے  کہ عورتوں کے لیے کسی  عالمہ قاریہ  خاتون کا انتظام کیا جائے  ۔البتہ اگر کہیں  سے معلمہ خاتون کا بندوبست  نہ ہو سکے   تو بوجہ ضرورت  ایسے مرد کو  اجازت دی جا سکتی ہے   جو متقی اور پرہیز گار  ہو  اور اس سے کسی قسم کی بے احتیاطی  یا فتنے کا اندیشہ نہ ہو  ،نیز یہ بھی ضروری ہے کہ معلم اور طالبات  کے مابین  مضبوط پردہ  حائل ہو  اور کبھی معلم وطالبہ اکیلے نہ ہوں اور بلا ضرورت گفتکو نہ کریں  ۔اگر مناسب ماحول  اور محفوظ طریقہ   تعلیم بشرائط  مذکورہ موجود ہو  تو بالغ  لڑکیوں  کے لیے  معلم مرد  سے قرآن کریم  کی تعلیم حاصل کرنے کی گنجائش ہے ۔

صورت مسئولہ کے مطابق لڑکیوں  کا  پردہ کے  بغیراستاذ  کے سامنے ہونا   اور لڑکوں لڑکیوں  کو ایک ہی کلاس میں پڑھنا  شرعی نقطہ نظر سے  درست نہیں ۔

 

قال الله تعالى : ﴿قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ ﴾ (النور:(29)

‌وقد ذكره مسلم صريحا في حديث جابر قال فصلى ثم خطب الناس فلما فرغ نزل فأتى النساء فذكرهن فهذا صريح في أنه أتاهن بعد فراغ خطبة الرجال وفي هذه الأحاديث ‌ ‌استحباب ‌وعظ ‌النساء وتذكيرهن الآخرة وأحكام الإسلام وحثهن على الصدقة وهذا إذا لم يترتب على ذلك مفسدة وخوف على الواعظ أو الموعوظ أو غيرهما. ( شرح النووي على مسلم،كتاب صلاة العيدين،ج:٦،ص:١٧٢)

(وتمنع) ‌المرأة ‌الشابة (من كشف الوجه بين رجال) لا لأنه عورة بل (لخوف الفتنة) ۔ (ردالمحتار على الدر المختار،كتاب الصلاة،ج:2،ص،79)


فتویٰ نمبر : 6009/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں