بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 09/09/2026 |
دارالافتاء
درود شریف کے الفاظ کی تحقیق
سوال
کیا اس درود شریف کے الفاظ واقعی اللہ تعالیٰ سے منقول ہیں؟ "اللھم صل علی محمد وأزواجہ و ذریتہ کما صلیت علٰی آل إبراھیم و بارک علی محمد وأزواجہ و ذریتہ کما بارکت علی آل إبراھیم إنک حمید مجید"۔
جواب
سوال میں مذکورہ درود شریف حدیث کی چھ بڑی کتابوں میں ترمذی شریف کے علاوہ باقی سب میں مذکور ہے۔ بخاری شریف میں روایت ہے کہ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم آپ پر کس طرح درود بھیجیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس طرح کہو «اللهم صل على محمد وأزواجه وذريته، كما صليت على آل إبراهيم، وبارك على محمد وأزواجه وذريته، كما باركت على آل إبراهيم، إنك حميد مجيد» ”اے اللہ! محمد اور آپ کی ازواج اور آپ کی اولاد پر اپنی رحمت نازل کر جیسا کہ تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر رحمت نازل کی اور محمد اور ان کی ازواج اور ان کی اولاد پر برکت نازل کر، جیسا کہ تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر برکت نازل کی۔ بلاشبہ تو تعریف کیا گیا شان و عظمت والا ہے۔“
تاہم اس درود کے ساتھ کہیں پر یہ صراحت موجود نہیں کہ اس درود شریف کے الفاظ اللہ تعالی سے منقول ہیں۔
عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ أَنَّهُمْ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ؟ قَالَ: (قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إنك حميد مجيد).(صحيح البخاري، كتاب الدعوات، باب: هل يصلى على غير النبي صلى الله عليه وسلم، رقم الحديث: 5999، ج: 5، ص: 2339)
عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ. أَخْبَرَنِي أَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ؛ أَنَّهُمْ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ؟ قَالَ "قُولُوا: اللَّهُمَّ! صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى أَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ. كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ. وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى أَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ. كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ. إِنَّكَ حميد مجيد"(صحيح مسلم،كتاب الصلاة،باب الصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم بعد التشهد،رقم الحديث:407، ج:1، ص:306)
عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنَّهُمْ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ أُمِرْنَا بِالصَّلَاةِ عَلَيْكَ، فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ؟ فَقَالَ: " قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَأَزْوَاجِهِ، وَذُرِّيَّتِهِ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَأَزْوَاجِهِ، وَذُرِّيَّتِهِ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، فِي الْعَالَمِينَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ "(سنن ابن ماجه،باب الصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم، رقم الحديث:905،ج:1، ص:293)
عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ، أَنَّهُمْ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ؟ قَالَ: " قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَأَزْوَاجِهِ، وَذُرِّيَّتِهِ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَأَزْوَاجِهِ، وَذُرِّيَّتِهِ ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ "(سنن أبي داود،باب الصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم بعد التشهد،رقم الحديث:979،ج:1، ص:257)
عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ أَنَّهُمْ «قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، كَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم: قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ. فِي حَدِيثِ الْحَارِثِ: كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَأَزْوَاجِهِ، وَذُرِّيَّتِهِ. قَالَا جَمِيعًا: كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ»(سنن النسائي، بَابُ: كَيْفَ الصَّلَاةُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم، نوع آخر،رقم الحديث:1294،ج:3،ص:49 )
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں