بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

چچا اور والد کو نکاح میں گواہ بنانا


سوال

سوال :ایک شخص نے اپنے چچا کی بیٹی سے نکاح  کیا ہوا تھا ،پھر کچھ وقت گزارنے کے بعد اس نے اس کو ایک طلاق بائن دی ،اب واپس دونوں نکاح کرنا چاہتے ہیں لیکن کہتے ہیں کہ ہمارے گھر سے باہر کسی کو پتہ  نہ چلے  ، اگر اپنے چچا  اور والد کو نکاح کاگواہ بنا لے   تو شر عا اس کا کیا حکم ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ دو عاقل بالغ مسلمان مردیا ایک مرد اور دو عورتوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول کرنے سے نکاح منعقد ہو جاتا ہے خواہ گو اہ اپنے خاندان کے لوگ کیوں نہ ہوں۔

 لہذا صورت مسئولہ کے مطابق لڑکے اور لڑکی کا اپنے چچا اور والد کو  نکاح میں بطور گواہ مقرر کرنا جائز ہے۔

 

النكاح يتعقد بالإيجاب والقبول ولا ينعقد نكاح المسلمين إلا بحضور شاهدين حرين عاقلين بالغين مسلمين رجلين أو رجل و امرأتين (الهداية كتاب النكاح، ج 1، ص 85، دار احياء التراث العربي بيروت لبنان)

وينعقد النكاح بحضور من لا تقبل شهادته عليه أصلا كما إذا تزوج امرأة بشهادة ابنيه (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع ،كتاب النكاح،ج:2،ص:255)


فتویٰ نمبر : 7013/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں