بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 11/08/2026

دارالافتاء

 

جھوٹی قسم دینا اور جھوٹی قسم کھانا


سوال

ایک شخص نے دوسرے شخص کو جھوٹی قسم دے دی، دوسرا شخص باوجود جاننے کے کہ یہ جھوٹا ہے، لیکن پھر بھی قصداً قسم کھا لی، تو سوال یہ ہے کہ کیا جھوٹی قسم دینے والا گناہ گار ہوگا یا جھوٹی قسم کھانے والا؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی شخص دوسرے  پر کسی چیز کا دعوی کرے اوروہ دوسرا شخص انکار کرے، مدعی کے پاس گواہ نہ ہوں، اس لیے وہ مدعی علیہ کوقسم دے، تو ایسی صورت میں اگر مدعی علیہ جھوٹی قسم کھالے، تو صرف وہ گناہ گار ہوگا مدعی، جس نے قسم دی ہے وہ گناہ گار نہ ہوگا۔ لیکن اگر مدعی کے علاوہ  کوئی دوسرا شخص جان بوجھ کر کسی کو جھوٹی قسم کھانے کا کہےاور وہ جھوٹی قسم کھالے، تو ایسی صورت میں دونوں گناہ گار ہوں گے کیونکہ کسی کو گناہ کے کام پر آمادہ کرنا یا اس کا ذریعہ بننا بھی اس کے ساتھ گناہ میں شریک ہوناہے۔

 

عن عبد الله بن عمرو، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: الكبائر: الإشراك بالله، وعقوق الوالدين، وقتل النفس، واليمين الغموس.(صحيح البخاري، كتاب الأيمان والنذور،باب اليمين الغموس، ج:6،ص:2457، رقم الحديث:6297)

عن عبد الله رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: من حلف على يمين كاذبة، ليقتطع بها مال رجل مسلم، أو قال: أخيه، لقي الله وهو عليه غضبان.فأنزل الله تصديقه:إن الذين يشترون بعهد الله. (صحيح البخاري، كتاب الأيمان والنذور،باب اليمين الغموس، ج:6،ص:2453، رقم الحديث:6283)

عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ‌من ‌دعا ‌إلى ‌هدى كان له من الأجر مثل أجور من تبعه، لا ينقص ذلك من أجورهم شيئا، ومن دعا إلى ضلالة كان عليه من الإثم مثل آثام من تبعه، لا ينقص ذلك من آثامهم شيئا. (صحيح مسلم، كتاب العلم، ج:8، ص:62،رقم الحديث:2674)


فتویٰ نمبر : 10189/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں