بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

نجس کپڑوں میں نماز پڑھنا


سوال

رات کو میرے کپڑوں پرمیرے بیٹے نے پیشاب کیا تھا لیکن مجھے پتا نہیں تھا اور اسی کپڑوں کے ساتھ میں نے صبح کی نماز بھی ادا کرلی، لیکن بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ کپڑے نجس تھے، اب پوچھنا یہ ہے کہ نجس کپڑوں کے ساتھ ادا کی گئی نماز کو دوبارہ لوٹانا ضروری ہے یا نہیں؟

جواب

نماز کی شرائط میں سے ایک شرط لباس کا نجاست سے پاک ہونا ہے، لہذا اگر کسی نے ایسے کپڑوں میں نماز ادا کی جس پر نجاست غلیظہ جیسے بول، خون وغیرہ ایک درہم سے زیادہ مقدار میں لگی ہوئی ہوتو اس سے نماز ادا نہیں ہوتی بلکہ نماز کو دوبارہ پڑھنا ضروری ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر کپڑوں پرلگی ہوئی پیشاب ایک درہم کی مقدار سےزیادہ تھی تواس نماز کو دوبارہ لوٹانا ضروری ہے۔

فإذا ‌أصاب ‌الثوب ‌أكثر من قدر الدرهم يمنع جواز الصلاة. كذا في المحيط. (الفتاوى الهندية، كتاب الطهارة، الباب السابع في النجاسة وأحكامها، ج:1، ص:46)

‌النجاسة ‌إن ‌كانت ‌غليظة وهي أكثر من قدر الدرهم فغسلها فريضة والصلاة بها باطلة وإن كانت مقدار درهم فغسلها واجب والصلاة معها جائزة وإن كانت أقل من الدرهم فغسلها سنة وإن كانت خفيفة فإنها لا تمنع جواز الصلاة حتى تفحش. كذا في المضمرات. (الفتاوى الهندية، كتاب الصلاة، الباب الثالث في شروط الصلاة، الفصل الأول في الطهارة، ج:1، ص:58)


فتویٰ نمبر : 10185/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں