بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

آذان میں اللہ اکبر کی "را" کا صحیح اعراب


سوال

آذان کرتے وقت بعض لوگ "را" کو ساکن پڑھتے ہیں جبکہ بعض لوگ ضمہ کے ساتھ اور بعض فتحہ کے ساتھ پڑھتے ہیں اب پوچھنا یہ ہے کہ آذان  میں اللہ اکبر کی " را" پر درست اعراب کیا ہے؟

جواب

آذان میں اللہ اکبر کی "را" فصل (جدا جدا) پڑھنے کی صورت میں ساکن پڑھنا افضل ہے اور اگر وصل یعنی اللہ اکبر کو دوسرے اللہ اکبرکے ساتھ ملا کر پڑھنا ہوتو سکون کی نیت کرکے "را" کی حرکت کو فتحہ دینا سنت ہے بعض کے ہاں "را" پر ضمہ پڑھنے کا قول بھی ہےلیکن علامہ شامیؒ فرماتے ہیں کہ "را'' پر ضمہ کی حرکت پڑھناخلاف سنت ہے۔

 

وحاصلها ‌أن ‌السنة ‌أن يسكن الراء من " الله أكبر " الأول أو يصلها ب " الله أكبر " الثانية، فإن سكنها كفى وإن وصلها نوى السكون فحرك الراء بالفتحة، فإن ضمها خالف السنة۔ (ردالمحتار على الدرالمختار، باب الأذان، ج:1، ص:386)

‌والحاصل ‌أن ‌التكبيرة ‌الثانية ‌في ‌الأذان ساكنة الراء للوقف ورفعها خطأ، وأما التكبيرة الأولى من كل تكبيرتين منه وجميع تكبيرات الإقامة، فقيل محركة الراء بالفتحة على نية الوقف، وقيل بالضمة إعرابا، وقيل ساكنة بلا حركة على ما هو ظاهر كلام الإمداد والزيلعي والبدائع۔ (ردالمحتارعلى الدرالمختار، باب الأذان، ج:1، ص:386)


فتویٰ نمبر : 10184/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں