بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

مملوکہ چیز ثمن کی نفی کر کے فروخت کرنا


سوال

اگر کوئی اپنی مملوکہ چیز ثمن کی نفی کر کے فروخت کرے تو کیا یہ معاملہ جائز ہے؟

جواب

کسی چیز کی خرید و فروخت کے لیے ضروری ہے کہ  فریقین کے درمیان ایک قیمت (ثمن) کا تعین ہو۔ ہبہ  اور بیع میں بنیادی فرق یہ ہے کہ ہبہ میں کسی چیز کی منتقلی بغیر کسی قیمت کے ہوتی ہے، جبکہ بیع میں قیمت کا ہونا ضروری ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر کوئی شخص  ثمن کی نفی کر کے  کسی کو  اپنی مملوکہ چیز کا مالک بنائے تو یہ معاملہ ہبہ ہو گا  بیع نہیں اور ہبہ  ہونے کی وجہ سے یہ جائز ہے۔

 

البيع ‌هو ‌مبادلة ‌المال ‌بالمال.( بدائع الصنائع،فصل في بيان ما يرفع حكم البيع،ج:٥،ص:٣٠٦)

العطية الخالية عن الأعواض  والأغراض. أو إيصال الشيء ‌إلى ‌الغير ‌بما ‌ينفعه ،سواء كان مالا أو غير مال.( فتح القدير،كتاب الهبة،ج:٧،ص:٤٧٩)

العبرة ‌في ‌العقود للمقاصد والمعاني لا للألفاظ والمباني.(مجلة الأحكام العدلية، ‌‌المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية،المادة:٣)


فتویٰ نمبر : 6007/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں