بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

کسی حلال چیز کو اپنے اوپر حرام کرنا


سوال

اگر کسی سے ناراضگی ہو جانے پر کوئی شخص یہ کہے کہ "اب میں اس سے کبھی کوئی تحفہ نہیں لوں گا، اگر لیا تو مجھ پر حرام ہوگا "، پھر دونوں میں صلح ہو جانے کے بعد اس سے ہدیہ قبول کرلےتو اس کا کیا حکم ہوگا؟

جواب

واضح رہے کہ کسی حلال چیز کو اپنے اوپر حرام کرنا ’’قسم‘‘ کے حکم میں ہےلہذا اگر  کوئی شخص کسی حلال چیز کو اپنے اوپر حرام کرے تو اس کے حرام کرنے سے وہ چیز شرعاً حرام نہیں ہوجا تی  اس لیے اسے چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیز کو استعمال کرے، اور استعمال  کے بعدقسم کا کفارہ ادا کرے۔

صورت مسئولہ کے مطابق  مذکورہ الفاظ "اب میں اس سے کبھی کوئی تحفہ نہیں لوں گا، اگر لیا تو مجھ پر حرام ہوگا" قسم  کے حکم میں ہیں ، لہذا اگر ان دونوں کے درمیان صلح ہو جائےتب بھی اگراس سے کوئی تحفہ وصول کرے گا ، تو قسم توڑنے کا کفارہ لازم ہوگا۔

 

"(ومن حرم) أي على نفسه ... (شيئا) (ثم فعله) بأكل، أو نفقة ... (كفر) ليمينه، لما تقرر أن تحريم الحلال يمين.(  الدر المختار على صدر رد المحتار، كتاب الأيمان، ج:11، ص:299)

‌ومنعقدة، ‌وهو ‌أن ‌يحلف ‌على ‌أمر ‌في ‌المستقبل ‌أن ‌يفعله، ‌أو ‌لا ‌يفعله، وحكمها لزوم الكفارة عند الحنث كذا في الكافي.(الفتاوى الهندية، كتاب الأيمان، الباب الثاني فيما يكون يمينا، وما لايكون يمينا، الفصل الأول في تحليف الظلمة،وفيما ينوي الحالف غير ما ينوي به المستحلف ج:2، ص:52)


فتویٰ نمبر : 10182/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں