بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

بیٹے کی صحت یابی پر عالم بنانے کی منت ماننا


سوال

 میرا بڑا بیٹا بچپن میں بہت زیادہ بیمار ہوتا تھا تو اس وقت میں نے منت مان لی کہ اگر میرا بیٹا اس بیماری سے ٹھیک ہوجائے تو میں اس کو عالم بناؤں گا ،مگر بڑا ہونے کے بعد اب وہ عالم نہیں بننا چاہتا ،اب اس صورت میں اس منت کو کیسے پورا کیا جائے گا؟

جواب

واضح  رہے کہ نذر  کے منعقد ہونے کے لیے ضروری ہے   کہ جس بات کی نذر مانی جائے وہ عبادت مقصودہ ہو ،اور اس کی  جنس سے شریعت میں کوئی  فرض یا واجب عمل موجو دہو ،لہذا  جوعمل  عبادت مقصودہ نہ ہو یا اس کی جنس سے کوئی فرض یا واجب عمل موجود نہ ہو تو اس کی نذر منعقد نہیں ہوتی۔

صورتِ مسئولہ کے مطابق اگر  سائل نے  اپنے بیٹے کوبچپن میں  عالم بنانے کی نذر مانی تھی تو یہ نذر منعقد نہیں ہوئی، کیونکہ بیٹے کو عالم بنانا  فرض یا واجب  نہیں، لہذا سائل کے لیے اس منت کو پورا کرنا ضروری نہیں۔

 

(ومنها) أن يكون قربة مقصودة، فلا يصح النذر بعيادة المرضى وتشييع الجنائز والوضوء والاغتسال ودخول المسجد ومس المصحف والأذان وبناء الرباطات والمساجد وغير ذلك وإن كانت قربا؛ لأنها ليست بقرب مقصودة ويصح النذر بالصلاة والصوم والحج والعمرة والإحرام بهما والعتق والبدنة والهدي والاعتكاف ونحو ذلك؛ لأنها قرب مقصودة.(بدائع الصنائع، كتاب النذر، بيان ركن النذر و شرائطه، ج:5، ص:82)

واعلم ‌بأنهم ‌صرحوا ‌بأن ‌شرط ‌لزوم ‌النذر ‌ثلاثة ‌كون المنذور ليس بمعصية وكونه من جنسه واجب وكون الواجب مقصودا لنفسه قالوا فخرج بالأول النذر بالمعصية والثاني نحو عيادة المريض والثالث ما كان مقصودا لغيره حتى لو نذر الوضوء لكل صلاة لم يلزم وكذا لو نذر سجدة التلاوة وفي الواقعات ولو نذر تكفين ميت لم يلزم؛ لأنه ليس بقربة مقصودة.(البحرالرائق شرح كنز الدقائق، كتاب الصوم، فصل ما يوجب العبد  على نفسه، ج:2، ص:316)


فتویٰ نمبر : 10180/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں