بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/08/2026

دارالافتاء

 

"ته زمانه خلاصه ئے او زه ته نه خلاص يم "سے طلاق کا حکم


سوال

میاں بیوی کی شادی کے سات ماہ ہوگئے،آئے روز شوہر بیوی کومارتارہتا ہےاور لڑائی چلتی رہتی ہے دو دفعہ اس نے لڑائی میں بیوی کو یہ الفاظ  پشتو میں کہے ہیں ،"ته زمانه خلاصه ئے او زه ته  نه خلاص يم "،آخری بار جب  لڑائی  ہوئی   تو شوہر بیوی کو اس کے ماں  باپ  کے گھر  چھوڑ آیا  اور یہ الفاظ کہے "ته ما پر يخو دے مور پلار ته دے وايا چه ته  له غم ووكى زه زان له غم كوم " اورکپڑے گھر میں پھینک  کر چلا گیا ۔پوچھنا یہ ہے کہ ان قسم کے الفاظ  سے اس قسم کی صورت حال میں طلاق واقع ہو جاتی ہے  یا نہیں ؟عورت کے لیے کیا حکم ہے ؟

جواب

کوئی شخص بیوی کو یہ کہے "ته زمانه خلاصه ئے او زه ته  نه خلاص يم " (تو مجھ سے آزاد ہو اور میں تجھ سے آزاد ہوں ) تو اگر چہ یہ الفاظ بذات خود کنائی ہیں اور اس سے طلاق کا وقوع نیت پر مبنی ہے لیکن عرف میں یہ الفاظ طلاق ہی کے لیے استعمال ہوتے ہیں،اس لیے طلاق صریحی میں شمارہو کرنیت کے بغیر بھی اس سے طلاق  واقع ہوتی  ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر واقعی شوہر نے بیوی  سے لڑائی کے دوران مذکوہ الفاظ،"ته زمانه خلاصه ئے او زه ته  نه خلاص يم " دو مرتبہ کہے ہوں  تو اس سے دو  طلاق  رجعی واقع ہو ئی ہیں   اورآخری بار جب   شوہر نے  یہ الفاظ کہے "ته ما پر يخو دے مور پلار ته دے وايا چه ته  له غم ووكى زه زان له غم كوم " تو ان الفاظ سے تیسری  طلاق واقع ہو کر اس پر بیوی  طلاق مغلظہ کے ساتھ  حرام ہوگئی۔

قوله ‌سرحتك وهو " رهاء كردم " لأنه صار صريحا في العرف على ما صرح به نجم الزاهدي الخوارزمي في شرح القدوري اهـ وقد صرح البزازي أولا بأن: حلال الله علي حرام أو الفارسية لا يحتاج إلى نية، حيث قال: ولو قال حلال " أيزدبروي " أو حلال الله عليه حرام لا حاجة إلى النية، وهو الصحيح المفتى به للعرف وأنه يقع به البائن لأنه المتعارف ثم فرق بينه وبين ‌سرحتك فإن ‌سرحتك كناية لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح فإذا قال " رهاكردم " أي ‌سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا، وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق وقد مر أن الصريح ما لم يستعمل إلا في الطلاق من أي لغة كانت، لكن لما غلب استعمال حلال الله في البائن عند العرب والفرس وقع به البائن ولولا ذلك لوقع به الرجعي.(رد المحتار على الدر المختار، كتاب الطلاق  باب الكنايات،ج4،ص:350)


فتویٰ نمبر : 7009/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں