بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
حرمت مصاہرت سے مرد اور عورت کی اولاد کا ایک دوسرے سے نکاح
سوال
ایک دن میں اپنی بہن کے ساتھ سویا تھا اچانک بیدار ہوا اور اپنی بہن کو شہوت کے ساتھ چھوا جس سے دخول کیے بغیر میرا انزال ہوگیا، تو پوچھنا یہ ہے کہ حرمت مصاہرت کی وجہ سے میری اولاد اور بہن کی اولاد کا آپس میں نکاح کرناشریعت کی رو سے درست ہےیا نہیں ؟
جواب
واضح رہے کہ دواعی جماع(تقبیل ،معانقہ وغیرہ)سے اس وقت حرمت مصاہرت ثابت ہوتی ہےجب انزال نہ ہواہو،اگردواعی جماع(تقبیل،معانقہ وغیرہ) کے وقت انزال ہوجائےتو اس صورت میں حرمت مصاہرت ثابت نہ ہوگی، نیزحرمت مصاہرت سے مردکے اصول و فروع ( باپ اور دادا یا اولاد اور اولاد کی اولاد ) عورت پر ہمیشہ کے لیے حرام ہوجاتےہیں ، اور اس عورت کے اصول و فروع مرد پر ہمیشہ کے لیے حرام ہوجاتےہیں،لیکن مرد و عورت کی اولاد آپس میں ایک دوسرے پر حرام نہیں ہوتے ان کی اولاد کاآپس میں نکاح ہوسکتا ہے۔
لہذا صورت مسئولہ میں سائل اور اس کی بہن کی اولاد کا آپس میں نکاح کرنا جائز ہے۔
(و) حرم أيضا بالصهرية ۔۔۔هذا إذا لم ينزل، فلو أنزل مع مس أو نظر فلا حرمة، قوله (فلا حرمة)لأنه بالإنزال تبين أنه غير مفض إلى الوطء،قال في العناية:ومعنى قولهم:إنه لا يوجب الحرمة بالإنزال،أن الحرمة عند إبتداء المس بشهوة كان حكما موقوفا إلى إن تبين بالإنزال،فإن أنزل لم يثبت(الدر المختارعلى صدر رد المحتار، كتاب النكاح،فصل في المحرمات،ج:4،ص:109)
قوله ( وحرم أيضا بالصهرية أصل مزنيته ) قال في البحر أراد بحرمة المصاهرة الحرمات الأربع حرمة المرأة على أصول الزاني وفروعه نسبا ورضاعا وحرمة أصولها وفروعها على الزاني نسبا ورضاعا كما في الوطء الحلال ويحل لأصول الزاني وفروعه أصول المزني بها وفروعها(رد المحتار على الدر المختار، كتاب النكاح ، فصل في المحرمات ،ج:4، ص:114،113)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں