بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بائع کا مبیع میں موجود عیب کو چھپانا


سوال

میرا ایک موبائل شاپ ہے میں کسی سے موبائل خریدتا ہوں اور وہ یہ نہیں بتاتا کہ اس میں کوئی مسئلہ ہے، حالانکہ اس میں کوئی نہ کوئی مسئلہ ہو تو کیا اسکو اِس چیز کا گناہ ملے گا ؟دوسرا یہ کہ اگر میں خرید لیتا ہوں اور کوئی مسئلہ میری نظر میں نہیں آتا، لیکن بعد میں پتا لگتا ہے کہ اِس موبائل میں مسئلہ ہے تو کیا میں بھی اسی طرح کسی کو بغیر بتائے فروخت کرسکتا ہوں ؟ کیونکہ بتانے سے کوئی نہیں لے گا اور میرا پورا پورا نقصان ہے تو اِس صورت میں کیامیں گنہگار ہوں گا ؟

جواب

واضح رہے کہ کسی عیب دار چیز کا عیب بتائے بغیراس کو آگے  فروخت کرنا دھوکہ ہے، اور دھوکہ دینا اسلام میں ناجائز ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق جس شخص سےسائل  موبائل خریدتا ہے، اگر وہ موبائل کی خرابی معلوم ہونے کے باوجود بغیر خرابی بتائے سائل پر فروخت کرے، تو وہ شخص گنہگار  ہوگا، اور اگر سائل  اس خرابی کا علم ہونے کے بعد اس کی خرابی بتائے بغیر آگے فروخت کرے گاتو اس پر بھی گناہ لازم آئے گا، البتہ اگر سائل اسے فروخت کرتے وقت یوں کہہ دےکہ میں اس کے ہر عیب سے بری ہوں، چاہو تو لے لو، ورنہ چھوڑ دو، تو اس صورت میں اس پر کسی قسم کا کوئی گناہ لازم نہیں آئے گا۔

 

عن أبي هريرة ، قال: " نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع الحصاة، وعن بيع الغرر".( الصحيح للمسلم،كتاب البيوع، باب بطلان بيع الحصاة،والبيع الذي فيه غرر، رقم الحديث:3808)

لا يحل كتمان العيب في مبيع أو ثمن؛ لأن الغش حرام. (ردالمحتارعلى الدر المختار،کتاب البيوع، باب خيار العيب، مطلب في جملة ما يسقط به الخيار، ج:5، ص:45)

لا يحل كتمان العيب في مبيع أو ثمن؛ لأن الغش حرام،إذا باع سلعة معيبة، عليه البيان. (ردالمحتارعلى الدر المختار،كتاب البيوع، مطلب في جملة ما يسقط به الخيار،ج:5، ص:47)

(قوله ‌وصح ‌البيع ‌بشرط ‌البراءة ‌من ‌كل ‌عيب) بأن قال :بعتك هذا العبد على أني بريء من كل عيب.(رد المحتار على الدر المختار،كتاب البيوع،باب خيار العيب،مطلب في البيع بشرط البراءة من كل عيب، ج: 5، ص:42)


فتویٰ نمبر : 3632/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں