بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

مرض الموت میں بیٹے کا اپنے باپ سے جائیداد سستے داموں خریدنا


سوال

 کیا ایک بیٹا اپنے باپ سے مرض الموت میں ایک کروڑ کی مالیت کی جائیداد 5 لاکھ میں خرید کر باقی ورثا  کو محروم کر سکتا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ ہر شخص اپنی زندگی میں مملوکہ مال وجائیدادمیں  جائز تصرفات  کا حق رکھتاہےلیکن مرض الموت میں اپنے مال  میں ایسا تصرف  کرنا جائز نہیں جس سے ورثا کی حق تلفی ہوتی ہو، کیونکہ مرض الموت میں مال کے ساتھ ورثا کا حق متعلق ہوجاتا ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق باپ کا مرض الموت میں ایک کروڑ کی مالیت کی جائیداد 5 لاکھ میں اپنے ایک بیٹے کو فروخت کر کے باقی ورثا  کو محروم کرنا جائز نہیں۔

 

وَبِخِلَافِ مَا إذَا بَاعَ الْمَرِيضُ عَيْنًا مِنْ وَارِثِهِ بِمِثْلِ قِيمَتِهَا حَيْثُ لَا يَجُوزُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رحمه الله؛ لِأَنَّ الْمَرِيضَ مَمْنُوعٌ عَنْ إيثَارِ بَعْضِ الْوَرَثَةِ بِالْعَيْنِ؛ لِأَنَّ النَّاسَ لَهُمْ أَغْرَاضٌ فِي الْعَيْنِ فَلَا يَمْلِكُ إيثَارَ بَعْضِ الْوَرَثَةِ بِهَا، وَفِي حَقِّ غَيْرِهِمْ مَمْنُوعٌ عَنْ إبْطَالِ الْمَالِيَّةِ حَتَّى كَانَ لَهُ أَنْ يَبِيعَ جَمِيعَ مَالِهِ بِمِثْلِ الْقِيمَةِ وَبِأَقَلَّ مِنْهُ إلَى ثُلُثَيْ الْقِيمَةِ إذَا لَمْ يَكُنْ عَلَيْهِ دَيْنٌ؛ لِأَنَّ لَهُ أَنْ يُحَابِيَ بِقَدْرِ الثُّلُثِ كَمَا يَجُوزُ لَهُ أَنْ يَتَبَرَّعَ بِهِ وَبَعْدَ مَوْتِ الْمَرِيضِ الْغُرَمَاءُ أَحَقُّ بِالْمَالِيَّةِ وَالْوَرَثَةُ أَحَقُّ بِالْعَيْنِ حَتَّى كَانَ لَهُمْ أَنْ يَسْتَخْلِصُوهَا بِالْقِيمَةِ.(تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق، كتاب المأذون،ج:6، ص:298)

ولأنه ‌لما ‌مرض ‌مرض ‌الموت فقد تعلق حق الورثة بماله ولهذا لا يملك أن يتبرع عليه بشيء من الثلث مع ما أنه خالص ملكه.(بدائع الصنائع، كتاب الإقرار، فصل أنواع المقر به ومنها حق العبد، ج:7، ص:224)


فتویٰ نمبر : 3767/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں