بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

دکاندار کا دودھ قبضہ میں آنے سےپہلے فروخت کرنا


سوال

میرےبھائی کی دودھ کی دکان ہے۔ ڈھیری فارم والےدودھ  لاتے ہیں وہ فروخت کرتا ہے ان کا دودھ اچھا ہوتا ہے اس سے زیادہ بکتا ہے اس کے پاس لوگ زیادہ خریدنے آتے ہیں ۔ڈھیری فارم والےتازہ دودھ لاتے ہیں اور تقریبا ًجلدی ختم ہوجاتا ہےان میں اکثر لوگ ایڈوانس میں رقم دیتے ہیں کہ میرے لیے اس میں حصہ رکھو۔وہ دودھ ختم ہونے کے ڈر کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم آئیں اوردودھ  ختم ہوچکا ہو، دودھ آنے کے بعد ان کے لیے حصہ رکھاجاتا ہے بعد میں وہ آکر دودھ لے جاتےہیں۔سوال یہ ہے کہ  ایڈوانس پیسے وصول کرتے وقت دودھ اس کے پاس نہیں ہوتا تو کیا اس کو بیچنا جائز ہے؟

جواب

جب مشتری بائع کو پیشگی ادائیگی کرے اس شرط پر کہ وہ آئندہ اس کے عوض خریداری کرے گا اوراس خریداری کا حساب و کتاب ایک مقررہ وقت مثلاًمہینہ کے آخر میں لگایاجائےگاتو یہ بیع الاستجرار کہلاتا ہے اس بیع کا مقصد یکمشت ادائیگی کرکے باربار ادئیگی کی صعوبت سے چھٹکاراحاصل کرنا ہوتا ہے۔

صورت مسئولہ میں دکان دارکو ایڈوانس رقم دے کربعد میں دودھ وصول کرتے رہنا بیع استجرارکے زمرے میں داخل ہےاور متاخرین فقہانے اس کو استحساناًجائز قراردیاہے لہذا اس میں شرعاًکوئی حرج نہیں بشرطیکہ عاقدین عقد سے پہلے مبیع کی قیمت اس طورپرمتعین کریں کہ کسی قسم کی جہالت باقی نہ رہے۔

 

 (قوله: ما يستجره الإنسان إلخ) ذكر في البحر أن من شرائط المعقود عليه أن يكون موجودًا، فلم ينعقد بيع المعدوم ثم قال: و مما تسامحوا فيه، وأخرجوه عن هذه القاعدة ما في القنية الأشياء التي تؤخذ من البياع على وجه الخرج كما هو العادة من غير بيع كالعدس و الملح والزيت و نحوها ثم اشتراها بعدما انعدمت صح. اهـ. فيجوز بيع المعدوم هنا. اهـ ... في الولوالجية: دفع دراهم إلى خباز فقال: اشتريت منك مائة من من خبز، وجعل يأخذ كل يوم خمسة أمناء فالبيع فاسد و ما أكل فهو مكروه؛ لأنه اشترى خبزًا غير مشار إليه، فكان المبيع مجهولًا و لو أعطاه الدراهم، و جعل يأخذ منه كل يوم خمسة أمنان و لم يقل في الابتداء اشتريت منك يجوز و هذا حلال و إن كان نيته وقت الدفع الشراء؛ لأنه بمجرد النية لاينعقد البيع، و إنما ينعقد البيع الآن بالتعاطي والآن المبيع معلوم فينعقد البيع صحيحًا. قلت: ووجهه أن ثمن الخبز معلوم فإذا انعقد بيعًا بالتعاطي وقت الأخذ مع دفع الثمن قبله، فكذا إذا تأخر دفع الثمن بالأولى.(الدرالمختارعلى صدرردالمحتار،ج:4،ص:516)


فتویٰ نمبر : 3639/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں