بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

کرایہ دار سے ایڈوانس سیکورٹی لے کر استعمال کرنا


سوال

میں نے دکان کرایہ پر دی ہے، کرایہ کے علاوہ میں نے کرایہ دار سے تیس ہزار روپے بطورِ ایڈوانس سیکورٹی لی ہے، کیا ان پیسوں کا استعمال میرے لیے جائز ہے؟

جواب

 مکان یا دکان كے مالك کا کرایہ دار سے سیکورٹی کے طور پر ایڈوانس رقم وصول کرنا اگر بطور رہن ہو تو اجارہ میں رہن کے طور پر اس طرح کا ایڈوانس رقم لینا شرعا جائز ہے،لیکن اس صورت میں مؤجر کے لیے ایڈوانس رقم استعمال کرنا جائز نہیں ،لیکن اگر کرایہ دار کی طرف سے استعمال کی اجازت ہو تو ایسی صورت میں یہ ایڈوانس لی ہوئی رقم قرض کے حکم میں ہوکرمالک کے لیے اس رقم سے نفع اٹھانے کی گنجائش ہے ۔

صورت مسئولہ کے مطابق مالک دکان کے لیے  کرایہ دار سے تیس ہزار روپے  بطور ایڈوانس سیکورٹی  کے طور پرلے  کردکان دار کی صراحتا یا دلالتا اجازت  سے استعمال کرنا جائز ہے تاہم یہ رقم مالک دکان کے ذمے قرض ہوگی اس  لیے دکان دار کو واپس کرنا لازم ہوگا۔

 

ولو استأجرداراأوشيئا وأعطى بالأجررهنا جاز.(الفتاوى الهندية، كتاب الرهن، الباب الأول في تفسير الرهن و ركنه وشرائطه وحكمه،ج:5،ص:435)

للمستودع ‌أن ‌يستعمل ‌الوديعة بإذن صاحبها فله أيضا أن يؤجرها ويعيرها ويرهنها وأما إذا آجرها أو أعارها أو رهنها بدون إذن صاحبها لآخر وهلكت الوديعة في يد المستأجر أو المستعير أو المرتهن أو ضاعت أو نقصت قيمتها يكون المستودع ضامنا... الرهن: إذا رهن المستودع الوديعة بإذن صاحبها لأجل دين نفسه يكون من قبيل رهن المستعار، وأما إذا رهنها لأجل المودع يكون وكيلا من طرف المودع يعني رسولا بالرهن. ( درر الحکام شرح مجلة الأحکام، الباب الثاني في الوديعة، المادة: 792،ج:2،ص:305)

وعن عبد الله بن محمد بن أسلم السمرقندي وكان من كبار علماء سمرقند أنه لا يحل له أن ينتفع بشيء منه بوجه من الوجوه وإن أذن له الراهن، لأنه أذن له في الربا لأنه يستوفي دينه كاملا فتبقى له المنفعة فضلا فيكون ربا، وهذا أمر عظيم.(رد المحتار على الدر المختار، كتاب الرهن ،ج:10،ص:83)

(هو) لغة:حبس الشئ.وشرعا: (حبس شئ مالي) أي جعله محبوسا لان الحابس هوالمرتهن (بحق يمكن استيفاؤه) أي أخذه منه۔(ردالمحتار علی الدرالمختار،كتاب الرهن،ج:10،ص:683)


فتویٰ نمبر : 6000/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں