بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

غسل ميں زخم پر مسح کرنا


سوال

ایک شخص کے سر میں زخم ہے، جس کے لیے پانی نقصان دہ ہے، کیا  یہ شخص غسل کی جگہ تیمم کر سکتا ہے؟

جواب

 کسی شخص کے  جسم پر ایسا زخم ہو جس کی وجہ سے جسم کا آدھے سے زیادہ حصہ دھونا  مشکل ہو تو غسل كی بجائے  تیمم جائز ہے ،اور  اگر آدھے سے زیادہ جسم دھونا ممکن ہو توتیمم جائز نہیں بلکہ پانی سے غسل کرنا ضروری  ہوگا البتہ  زخم والی جگہ پر پانی پہنچانا نقصان دہ ہو تو اس پر مسح کرے گا۔

صورت مسئولہ میں چونکہ سر کے علاوہ باقی جسم دھونا ممکن ہے  اس لیے باقی بدن پر پانی بہانا ضروری ہے  ، البتہ سر کے جس حصے پر زخم ہو تو اس پر مسح کرے ،اور اگر مسح بھی مضر ہو تو مسح بھی معاف ہے۔

 

 (تيمم لو) كان (أكثره) أي أكثر أعضاء الوضوء عددا وفي الغسل مساحة (مجروحا) أو به جدري اعتبارا للأكثر (وبعكسه يغسل) الصحيح ويمسح الجريح... (قوله وبعكسه) وهو ما لو كان أكثر الأعضاء صحيحا يغسل إلخ، لكن إذا كان يمكنه غسل الصحيح بدون إصابة الجريح وإلا تيمم... (قوله ويمسح الجريح) أي إن لم يضره وإلا عصبها بخرقة ومسح فوقها.(رد المحتار علی الدر المختار،كتاب الطهارة،باب التيمم،ج:1،ص:257)

والحاصل أنه إذا كان لا يضره الغسل بنوع من الماء حار، أو بارد فعليه أن يغسله، وإن كان بحيث يضره المسح على الجبائر لم يمسح عليه؛ لأن الغسل أقوى من المسح، ولما سقط الغسل عن هذا الموضع لخوف الضرر فكذلك المسح، وإن كان لا يضره المسح مسح عليها؛ لأن الطاعة بحسب الطاقة.(المبسوط للسرخسي،باب اولوضوء والغسل،ج:1،ص:74)


فتویٰ نمبر : 10201/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں