بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مقدارِ مہر میں زوجین کا اختلاف


سوال

 شادی کے بعد مقدار مہر میں زوجین کا اختلاف ہوجائے تو کس کا قول معتبر ہوگا؟

جواب

زوجین کے مابین  اگر  مقدار مہر کی تعیین میں اختلاف پیدا ہو جائے  تو زوجین میں سے جس کے پاس دو عادل  مرد یا ایک عادل مرد اور دو عادلہ عورتیں بطور گواہ موجود ہوں تو اس کا قول معتبر ہو گا، اگر کسی کے پاس بھی شرعی گواہ نہ ہوں تو جس کا قول لڑکی کے مہر مثل کے زیادہ موافق ہو، اس کا قول اس کی قسم کے ساتھ معتبر ہو گا اور اگر مہر مثل متوسط مقدار میں ہو، یعنی شوہر کی بیان کردہ  مقدار سے زیادہ اور بیوی کی بیان کردہ مقدار سے کم ہو تو دونوں کو قسم دی جائے گی، اگر دونوں اپنے دعوے میں سچے ہونے کی قسم کھالیں تو مہرِ مثل لازم ہو جائے گا۔

 

إن اختلفا (‌في ‌قدره ‌حال ‌قيام ‌النكاح فالقول لمن شهد له مهر المثل) بيمينه (وأي أقام بينة قبلت). قال ابن عابدين: قوله ‌فالقول ‌لمن ‌شهد ‌له ‌مهر ‌المثل) أي فيكون القول لها إن كان مهر مثلها كما قالت أو أكثر، وله إن كان كما قال أو أقل، وإن كان بينهما أي أكثر مما قال وأقل مما قالت ولا بينة تحالفا ولزم مهر المثل.(رد المحتار على الدرالمختار، كتاب النكاح، باب المهر، ج:4، ص:297.)


فتویٰ نمبر : 7040/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں