بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 29/10/2026

دارالافتاء

 

" اگر میں نے تمھارے ساتھ تعلق رکھا تو مجھ پر میری بیوی تین پتھروں سے طلاق ہے"کہنے کا حکم


سوال

دو بھائیوں کا آپس میں جھگڑا ہوا ان میں سے  چھوٹے بھائی  کو غصہ آیا اور اس نے غصے میں  بڑے بھائی   سےکہا کہ" اگر میں نے تمھارے ساتھ تعلق رکھا تو مجھ پر میری بیوی  تین پتھروں سے طلاق ہے" اب چھوٹے بھائی کے بیٹے کی منگنی ہے اور وہ بڑے بھائی کو کسی کے ذریعے منگنی میں شرکت کرنے کی دعوت دینا چاہتا ہے  اگر بڑا بھائی منگنی میں شریک ہوجائے تو طلاق واقع ہوگی یا نہیں ؟اگر عدت لازم آتی ہو تو اس  کاکیا طریقہ کار ہوگا؟اور اس کی بیوی اور بچے منگنی میں شریک ہو سکتے ہیں یا نہیں؟نیز اگر کوئی حیلہ اس میں ہو سکتا ہو تو وہ بھی بتادیں۔

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کی طلاق کو کسی شرط کے ساتھ معلق کرے تو جب بھی شرط پائی جائے گی ، طلاق واقع ہوجائے گی ۔صورت مسئولہ کے مطابق اگر کسی شخص نے اپنےبھائی  سے یہ کہا ہو کہ " اگر میں نے تمھارے ساتھ تعلق رکھا تو مجھ پر میری بیوی  تین پتھروں سے طلاق ہے " تو   اس کے ساتھ ہر قسم  تعلق رکھنے سے تین طلاقیں واقع ہوں گی ،اور اس  بھائی کی طرف سے منعقد کردہ تقریب جیسے منگنی یا شادی وغیرہ میں  شرکت بھی تعلق کے زمرے میں آئے گا ، لہذا اس میں  شرکت کرنے سے تینوں طلاقیں واقع ہوں گی ،البتہ اس کی بیوی اور بچوں کے لیے منگنی میں شرکت کرنے میں کوئی حرج نہیں،تاہم طلاق سےبچنے کے لیے  یہ حیلہ کیا جاسکتا  ہے  کہ اپنی بیوی کو ایک طلاقِ بائن دے دے،اس کے بعدعدت(تین حیض یا تین مہینے ، اور حاملہ ہونے کی صورت میں وضع حمل ) ختم ہوجانےکے بعد اپنے بھائی سے تعلق بحال کرے، چوں کہ اس وقت اس کی بیوی اس کے نکاح میں نہیں ہوگی اس لیے اس کی بیوی پر تین طلاقیں واقع نہیں ہوں گی اورشرط پوری ہو کر ختم ہوجائے گی، پھر اس کے بعد دوبارہ اپنی بیوی سےباہمی رضامندی سے نکاح کرلے  البتہ شوہر کے پاس صرف دوطلاقوں کا اختیار ہوگا۔

 

وإذا ‌أضافه ‌إلى ‌الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق. (الفتاوى الهندية، كتاب الطلاق ، الفصل الثالث فى تعليق الطلاق،ج:1 ،ص:420)

‌ومن ‌فعل ‌المحلوف ‌عليه عامدا، أو ناسيا، أو مكرها فهو سواء، وكذا من فعله، وهو مغمى عليه، أو مجنون كذا في السراج.( الفتاوى الهندية، كتاب الأيمان،الفصل الأول في تحليف الظلمة وفيما ينوي الحالف ،ج:2 ،ص:52)

فحيلة من علق الثلاث بدخول الدار أن يطلقها واحدة ثم بعد العدة تدخلها فتنحل اليمين فينكحها۔(رد المحتار علی الدر المختار ،كتاب الطلاق،باب التعليق،مطلب زوال الملك لا يبطل اليمين، ج:3،ص:355)


فتویٰ نمبر : 7006/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں