بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/08/2026

دارالافتاء

 

مقرر کردہ سیل اور وصولی پورا نہ کرنے کی صورت میں سيل مين سے تنخواہ میں کٹوتی کرنا


سوال

اگر کوئی شخص کسی کمپنی میں سیل مین ہو اور کمپنی والوں نے اس سیل مین کو کہا ہو  کہ اگر مہینے کے آخر تک مقرر کردہ سیل (sale) اور وصولی (recovery)   پوری نہ کی تو آپ کی بنیادی تنخواہ میں اتنے اتنے فیصد رقم  کاٹی جائے گی ۔کمپنی  والوں کےلیے شرعا اس  فعل کا کیا حکم ہے؟

جواب

جب کسی کو اجیر ( ملازم) رکھتے ہوئے عمل اور مدت دونوں ذکر کیے جائیں، لیکن ان میں سے مدت کو عمل سے پہلے ذکر کیا جائے یا عمل کو  پہلے ذکر  کیا جائے، لیکن آخر میں یہ قید لگائی جائے کہ اجیر کسی اور کےلیے کام نہیں  کرے گا تو ایسی صورت میں وہ ملازم اجیر خاص کے حکم میں ہو گا اور اجیر خاص مقررہ مدت  میں حاضر رہنے  پر اجرت کا مستحق ٹھہرتا ہے، چاہے کام مکمل کر چکا ہو یا نہیں۔

صورت مسئولہ کے مطابق چونکہ کمپنی کا سیل مین کے ساتھ معاہدہ عموماً وقت اور عمل دونوں کے اعتبار سے ہوتا ہے اور سیل مین کو کسی اور کے ساتھ کام  کرنے کی اجازت نہیں ہوتی اس وجہ سے سیل مین اجیر خاص ہوتا ہے، لہذا  کمپنی کا اس سے مہینے کے آخرتک مقرر کردہ سیل اور وصولی پوری نہ کرنے کی صورت میں اس کی بنیادی تنخواہ سے  فیصد کے اعتبار سے  کٹوتی کرنا جائز نہیں، البتہ زیادہ سیل کرنے  پر اگر اس کےلیے کوئی اضافی الاؤنس مقرر کیا گیا ہو تو اس میں کٹوتی کرنا جائز ہے۔

 

وشرطها: ‌كون ‌الأجرة ‌والمنفعة ‌معلومتين؛ لأن جهالتهما تفضي إلى المنازعة. (الدر المختار، كتاب الإجارة، ج:9، ص: 7)
والأجير الخاص: من يستحق الأجر بتسليم نفسه وبمضي المدة ولا يشترط العمل في حقه لاستحقاق الأجر ۔۔۔وإذا جمع بين العمل وبين المدة وذكر العمل أولا نحو أن يستأجر راعيا مثلا ليرعى له غنما مسماة بدرهم شهرا يعتبر هو أجيرا مشتركا إلا إذا صرح في آخر كلامه بما هو حكم أجير الوحد بأن قال على أن لا ترعى غنم غيري مع غنمي وإذا ذكر المدة أولا نحو أن يستأجر راعيا شهرا ليرعى له غنما مسماة بدرهم يعتبر هو أجير وحد بأول الكلام إلا إذا نص في آخر كلامه بما هو حكم الأجير المشترك فيقول وترعى غنم غيري مع غنمي. كذا في الذخيرة والأوجه أن يقال الأجير المشترك من يكون عقده واردا على عمل معلوم ببيان عمله والأجير الخاص من يكون العقد واردا على منافعه ولا تصير منافعه معلومة إلا بذكر المدة أو بذكر المسافة. كذا في التبيين. وحكم أجير الوحد أنه أمين في قولهم جميعا حتى أن ما هلك من عمله لا ضمان عليه فيه إلا إذا خالف فيه والخلاف أن يأمره بعمل فيعمل غيره فيضمن ما تولد منه حينئذ هكذا في شرح الطحاوي. (الفتاوی الھندیة، كتاب الإجارة، الباب الثامن والعشرون في بيان حكم الأجير الخاص والمشترك، الفصل الأول، ج:4، ص: 499)


فتویٰ نمبر : 3623/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں