بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

کسی کے ذمہ لازم قرض زکوۃ شمار کرنا


سوال

میراایک شخص   کے ذمے  کچھ قرض  ہے   تقریباًتین سال ہوگئے  وہ ادا نہیں کرسکتا  وہ شخص کافی غر  یب ہو اہے  تو  کیا میں زکوۃ  کی مد میں اس قرض خواہ  کا قرض  معاف کر سکتا ہوں اگر صحیح  ہے  تو اس کا طریقہ  کار کیا ہوگا ؟

جواب

 زکوۃ کی ادائیگی میں تملیک یعنی مستحق کو مالک بنانا شرط ہے، کسی کے ذمے قرض   رقم معاف کرنے میں تملیک نہیں پائی جاتی، اس سے اس طرح زکوۃ ادا نہیں ہوتی۔

صورت مسئولہ کے مطابق  قرض معاف  کرنے  سے زکوۃ  ادا نہیں ہوگی  البتہ اگر قرض دار  مستحق  زکوۃ ہو تو زکوۃکی  رقم اسے دے کر اس کا مالک بنادیا جائے، پھر وہ رقم اس سے قرض میں وصول کر لی جائے تو اس صورت میں زکوۃ بھی ادا ہو جائے گی اور قرض بھی وصول ہو جائے گا۔

 

أما تفسيرها فهي تمليك المال من فقير مسلم غير هاشمي، ولا مولاه بشرط قطع المنفعة عن المملك من كل وجه لله - تعالى - هذا في الشرع۔ (الفتاوى الهندية، كتاب الزكوة، ج:1، ص:188)

وإن كان المديون فقيراً فوهب الدين ينوي به زكاة مال عين عند الواهب لا تسقط عنه زكاة۔ (فتاوى قاضي خان، كتاب الزكوة، فصل في هبة الدين من المديون بنية الزكاة، ج:1، ص:162)


فتویٰ نمبر : 10175/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں