بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

حرام کمائی والے سے ہدیہ لینا


سوال

مجھے ایک شخص نے کچھ ٹھنڈے مشروبات دیے  ، لیکن اس کی کمائی حرام ہے کیونکہ وہ نشے کی اشیاء   بیچتا ہے اور سود بھی کرتا ہے  کیا میرے لیے ایسے مشروبات کا استعمال کرنا جائز ہے یا میں کسی اور پر ان مشروبات کو بیچ سکتا ہوں ؟

جواب

جس شخص کے ذرائع آمدن حلال و حرام دونوں طرح کے ہوں تواگر  وہ حلال اور حرام آمدنی کو الگ نہیں کرتا بلکہ حرام اور حلال دونوں کو  ملاتا ہے  اور ایسا شخص کسی کو ہدیہ ، ہبہ یا دعو ت دے تو    اگر اس کی غالب کمائی حلال ذرائع سے ہو تو اس کا ہدیہ ، ہبہ یا دعوت قبول  کرنا جائز ہے اور اگر غالب کمائی حرام ذرائع سے ہو تو اس کا ہدیہ ،ہبہ یا دعوت قبول کرنا جائز نہیں ۔

صور ت مسئولہ کے مطابق اگرسائل کو  یقین ہو کہ مشروب دینے والے کی غالب کمائی  حرام کی ہے تو اس کے لیے اس سےوصول کردہ مشروبات استعمال کرنا یا بیچنا جائز نہیں ، کسی محتاج کو صدقہ کردے  ۔

 

‌أهدى ‌إلى ‌رجل ‌شيئا أو أضافه إن كان غالب ماله من الحلال فلا بأس إلا أن يعلم بأنه حرام، فإن كان الغالب هو الحرام ينبغي أن لا يقبل الهدية، ولا يأكل الطعام إلا أن يخبره بأنه حلال... لأن أموال الناس لا تخلو عن قليل حرام فالمعتبر الغالب. ( الفتاوى الهندية، كتاب الكراهية،الباب الثاني عشر في الهدايا والضيافات،ج:٥،ص:٣٤٢)

وإلا تصدقوا بها لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد على صاحبه. ( ردالمحتار على الدرالمختار، كتاب الحظروالإباحة، فصل في البيع،ج:٦،ص:٣٨٥)


فتویٰ نمبر : 3640/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں